Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ نوح علیہ السلام کی اولاد میں بہت پیغمبر ہوئے جن میں حضرت داؤدو سلیمان علیہما السلام بھی ہیں۔آپ ان تمام حضرات کے کمالات،اخلاق اختیا ر فرمائیں کیونکہ یہ رب تعالٰی کے دیئے ہوئے کمالات تھے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے سارے اعمال بھی کریں کیونکہ اسلام ان دینوں کا ناسخ ہے،نیز حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متبع نہیں آپ تو ان کے پیشوا او ر مقتدا ہیں ہاں ان کے کمالات کے جامع ہیں جیسے رب نے فرمایا:"قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیۡفًا"فرماؤ ہم ملت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہیں،یہاں پیروی سے مراد موافقت ہے نہ کہ اطاعت و فرماں برداری۱۲

۳؎  یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ انبیاء کرام کے کمالات کے جامع ہیں اور داؤد علیہ السلام نے قبول توبہ پر سجدۂ شکر کیا تھا یہ سجدہ ان کا کمال تھا،سورۂ ص میں یہ قصہ مذکور ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سجدہ کیا ہم کو بھی سجدہ کرنا چاہیئے۔امام احمد نے ابوبکر ابن عبداﷲ مزنی سے روایت کی کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سورۂ ص لکھ رہا ہوں جب سجدہ کی آیت پر پہنچا تو دوات و قلم وغیرہ سجدہ میں گر گئے میں نے یہ قصہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا،میں نے اس کے بعد دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہاں ہمیشہ سجدہ کرتے تھے۔ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ ص کا سجدہ دوسرے سجدوں کی طرح واجب ہے۱۲

 

الفصل الثانی

دوسری فصل

1029 -[7]

عَن عَمْرو بن الْعَاصِ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ.رَوَاهُ أَبُودَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عمروابن عاص سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے جن میں سے تین مفصل میں ہیں اور دو سورۂ حج میں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں قرآن کریم میں پندرہ سجدے ہیں کیونکہ وہ سورۂ ص میں بھی سجدہ مانتے ہیں اور سورۂ حج میں دو سجدے۔جمہور علماء کے نزدیک چودہ سجدے ہیں مگر امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے نزدیک ص میں سجدہ ہے تو حج میں صرف ایک سجدہ،اور شوافع کے نزدیک حج میں دو سجدے ہیں تو ص میں سجدہ نہیں،یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے ضعیف ہے کہ اس میں ایک راوی عبداﷲ ابن منین ہیں جو ضعیف ہیں۔شیخ عبدالحق محدث نے فرمایا کہ ابن منین قابلِ اعتبار نہیں،ابن قطان نے کہا کہ وہ مجہول ہیں،بہرحال یہ حدیث لائق عمل نہیں۱۲

1030 -[8]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ بِأَنَّ فِيهَا سَجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ. وَفِي الْمَصَابِيحِ: «فَلَا يَقْرَأها» كَمَا فِي شرح السّنة

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ حج کو اس طرح بزرگی دی گئی کہ اس میں دو سجدے ہیں فرمایاہاں جویہ دو سجدے نہ کرے ۱؎ وہ ان دونوں کو نہ پڑھے۔(ابوداؤد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۲؎  اور مصابیح میں ہے کہ سورۂ حج نہ پڑھے جیسا کہ شرح سنہ میں ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To