Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎  ابھی ہم عرض کرچکے کہ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نماز میں رفع یدین نہ کرتے تھے اور یہاں حضرت نافع کی روایت میں آگیا کہ کرتے تھے ان دونوں روایتوں کو جمع کرلو کہ پہلے کرتے تھے بعد میں نہ کرتے تھے یعنی نسخ کے پتہ لگنے پر رفع یدین چھوڑ دیا،از طحاوی۔ فقیر نے"جاءالحق"حصہ دوم میں ر فع یدین نہ کرنے کی پچیس حدیثیں جمع کی ہیں وہاں مطالعہ کرو۔

لطیفہ: مکہ معظمہ میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ  اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کا مسئلہ رفع یدین میں مناظرہ ہوا، امام اوزاعی نے رفع یدین کے لیے حضرت ابن عمر کی حدیث پیش کی، امام اعظم نے جواب دیا کہ مجھ سے حماد نے روایت کی انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ اور اسود سے انہوں نے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوائے تکبیر اولیٰ کے کبھی رفع یدین نہ کرتے اور فرمایا کہ میری حدیث کے تمام راوی بڑے فقیہ و عالم ہیں ،لہذا تمہاری حدیث سے یہ حدیث راجح ہے۔مرقات ،فتح القدیر وغیرہ۔

795 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن مَالك بن الْحُوَيْرِث قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِك. وَفِي رِوَايَة: حَتَّى يُحَاذِي بهما فروع أُذُنَيْهِ

روایت ہے حضرت مالک ابن حویرث سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں اپنے کانوں کے مقابل کردیتے اورجب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے"سمع اﷲ لمن حمدہ"ایسے ہی کرتے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہاتھوں کو کانوں کی لو کے مقابل کرتے  ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ ہاتھ کانوں تک اٹھائے جائیں،مطلب وہی ہے کہ انگوٹھے کانوں تک اٹھیں اور گٹے کندھوں تک۔کانوں تک ہاتھ اٹھانے کی بہت احادیث ہیں جو ہم نے اپنی کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں جمع کردی ہیں۔

796 -[7]

وَعَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہیں سے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھتے دیکھا تو جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو نہ کھڑے ہوتے حتی کہ سیدھے بیٹھ جاتے ۱؎ (بخاری)

۱؎ اس کا نام جلسہ استراحت ہے یعنی آرام کے لیے کچھ بیٹھنا،یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں سنت ہے،ہمارے ہاں نہیں۔ ہماری دلیل حضرت ابوہریرہ کی وہ حدیث ہے جو ترمذی وغیرہ نے نقل کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم طاق رکعتوں میں اپنے قدموں کے سینہ پر کھڑے ہوتے تھے، نیز ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود،علی مرتضٰی ،عمر، ابن عمر،ابن زبیر رضی اللہ عنھم سے روایت کی کہ وہ تمام حضرات قدم کے سینوں پر کھڑے ہوتے تھے۔ امام شعبی نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے صحابہ قدم کے سینہ پر کھڑے ہوتے تھے، اس حدیث کا مطلب جو یہاں مذکور ہے یہ ہے کہ آپ بڑھاپے شریف  میں جب ضعف کی وجہ سے سجدے سے سیدھے نہ اٹھ سکتے تب تھوڑا بیٹھ جاتے یہ عمل مجبورًا تھا۔

797 -[8]

وَعَن وَائِل بن حجرأنه رأى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم رفع يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ من الثَّوْب ثمَّ رفعهما ثمَّ كبر فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت وائل بن حجر سے   ۱؎کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھاجب آپ نماز میں داخل ہوتے تو ہاتھ اٹھا ئےتکبیرکہی پھر اپنے ہاتھ کپڑے میں ڈھک لیے ۲؎ پھر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا۳؎پھر جب رکوع کرنا چاہا تو کپڑے سے ہاتھ نکالے پھر انہیں اٹھایا اورتکبیر کہی پھر رکوع کیا جب کہا"سمع اﷲ لمن حمدہ"تو  آپ نے ہاتھ اٹھائے ۴؎پھر جب سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا ۵؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To