Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہ سارا واقعہ اس وقت کا ہے جب نماز میں کلام جائز تھا ورنہ اب اگر نمازی کسی کو خطاب کرکے دعا یا بددعا دے تو نماز جاتی رہے گی اور اگر کلام کی حرمت کے بعد کاہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت میں سے ہے،لہذا یہ حدیث گذشتہ حدیث کی خلاف نہیں کہ نماز میں لوگوں سے کلام جائز نہیں۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بحالت نماز بجائے سجدہ گاہ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تھے جیسے حاجی حرم کی نماز میں کعبے کو دیکھتے ہوئے ورنہ سجدہ گاہ کو دیکھتے ہوئے امام کی حرکت کا پتہ نہیں لگ سکتا۔

۳؎  یہ واقعہ گزشتہ واقعہ کے علاوہ ہے  وہاں ایک خبیث جن کھل کر آگیا تھا یہاں خود ابلیس آگیا تھا۔خیال رہے کہ ابلیس کا انبیا ئے کرام کی بارگاہ میں اس طرح پہنچ جانا ایسا ہی ہے جیسے بادشاہ کے جسم پر مکھی،مچھر کا بیٹھ جانا اس سے نہ تو یہ لازم آتا ہے کہ ابلیس کی طاقت حضور علیہ السلام سے زیادہ ہے اور نہ یہ کہ حضور علیہ السلام معصوم نہ ہوں۔

۴؎  اپنی بے حیائی اور ضد سے نہ کہ طاقت اور قوت سے جیسے بعض دفعہ مکھیاں اڑانے سے نہیں اڑتی۔

۵؎ اس کی شرح و فوائد بھی کچھ پہلے بیان ہوچکے۔یہاں معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کو رب نے طاقت دی ہے جب چاہیں شیطان کو پکڑ کا باندھ دیں لہذا گزشتہ حدیث میں جو تھا اَمْکَنَنِیَ اﷲُ اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ ہم پہلے بے قابو تھے اب قابو دیا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دائمی قابو و اختیار دیا گیاہے۔

1013 -[36]

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ الرَّجُلُ كَلَامًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِذَا سُلِّمَ عَلَى أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَتَكَلَّمْ وَلْيُشِرْ بِيَدِهِ. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر ایک شخص پر گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اسے سلام کیا اس نے کلام سے جواب دیا تو اس کی طرف حضرت عبداﷲ ابن عمر لوٹے اس سے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی پر نماز کی حالت میں سلام کیا جائے تو کلام نہ کرے اپنے ہاتھ سے اشارہ دے ۱؎(مالک)

۱؎  یہاں اشارے سے سلام کا اشارہ مراد نہیں بلکہ اپنے نماز میں ہونے کا اشارہ مراد ہے یعنی اگر کوئی نمازی کو بے خبری میں سلام کرے تو نمازی بتادے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں جیسے کہ ضرورت کے وقت مرد نمازی تسبیح کہے اور عورت تصفیق ورنہ سلام کا جواب اشارے سے دینا بھی منع ہے لہذا حدیث واضح ہے۔


 



Total Pages: 519

Go To