Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎  لہذا اس دروازہ کھولنے میں نہ آپ کا سینہ قبلہ سے پھرا نہ آپ کو عمل کثیر کرنا پڑا،ایک قدم بڑھا کر ایک ہاتھ سے کنڈی کھولی پھر ایک قدم ہٹاکر نماز کی جگہ پہنچ گئے جیسے اب بھی جب امام یا مقتدی کو آگے پیچھے ہٹایا جاتا ہے وہ ایک قدم سے ہٹ سکتے ہیں۔

1006 -[29]

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيّ مَعَ زِيَادَة ونقصان

روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کو نماز میں ہوا آجائے تو پھر جائے وضو کرے نماز لوٹائے ۱؎ (ابو داؤد)ترمذی نے کچھ زیادتی کمی کے ساتھ۔

۱؎  اگر عمدًا ہوا نکالی ہے تو نماز لوٹانا واجب ہے اگر اتفاقًا نکل گئی تو بنا جائز(یعنی بقیہ ادا کرنا)اور لوٹانا مستحب،بعض نے فرمایا اگر بنا میں جماعت ملتی ہو اور لوٹانے میں نہ ملتی ہو تو بنا مستحب ہے۔بنا کی مرفوع حدیثیں ابن ماجہ،دارقطنی میں مذکور ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق و عمرفاروق،علی مرتضٰی،سلمان فارسی وغیرھم صحابہ سے ثابت ہے لہذا یہ حدیث بنا کی روایتوں کے خلاف نہیں۔

1007 -[30]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أحدث أدكم فِي صَلَاتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں بے وضو ہوجائے تو اپنی ناک پکڑ لے پھر چلا جائے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ وضو کرنے کے لیئے ناک پکڑنا اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے ہے تاکہ لوگ سمجھیں کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی۔اس سے معلوم ہوا کہ نکسیر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ورنہ یہ تدبیر بے کار ہوتی لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے اور ناک پکڑنے کا حکم استحبابی ہے۔

1008 -[31]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِذَا أحدث أدكم وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَاده

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی سلام پھیرنے سے پہلے بے وضو ہوجائے حالانکہ آخر نماز بیٹھ لیا ہے تو اس کی نماز جائز ہوگئی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں اس کی اسناد میں اضطراب ہے ۲؎

۱؎ یعنی آخری قعدہ میں بقدر التحیات بیٹھ چکا تھا کہ اس کا وضو جاتا رہا تو اس کا فرض ادا ہوگیا اگر عمدًا وضو توڑا ہے تو امام اعظم کے نزدیک بھی ادا ہوگیا کیونکہ ارادۃً نماز سے نکلنا پالیا گیا اور اگر اتفاقًا بلاقصد وضو ٹوٹ گیا تو صاحبین کے ہاں نماز ہوگئی کیونکہ ان کے ہاں اراداۃً نماز سے نکلنا فرض نہیں۔یہ حدیث امام صاحب کی قوی دلیل ہے کہ آخری التحیات میں بیٹھنا فرض ہے نہ کہ پڑھنا اور سلام بھی فرض نہیں امام شافعی کے ہاں سلام فرض ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To