$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب ما لا یجوز من العمل فی الصلوۃ وما یباح منہ

باب نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون مباح ہیں  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  نماز میں بعض کام کرنے کے ہیں،بعض نہ کرنے کے۔کرنے والے:بعض فرض ہیں جن کے بغیر نماز قطعًا ہوتی ہی نہیں، بعض واجب جن کے سہوًا رہ جانے سے سجدہ واجب ہے،بعض سنت ہیں،بعض مباح۔نہ کرنے والے کام:بعض مکروہ تنزیہی ہیں،بعض مکروہ تحریمی،بعض حرام،اس باب میں انہیں کا ذکر ہے۔

978 -[1]

عَن مُعَاوِيَة ابْن الْحَكَمِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَرَمَانِي الْقَوْم بِأَبْصَارِهِمْ. فَقلت: وَا ثكل أُمِّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ من كَلَام النَّاس إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ» أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قلت: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقد جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ. قَالَ: «فَلَا تَأْتِهِمْ» . قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ» . قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ. قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَوْلُهُ: لَكِنِّي سَكَتُّ هَكَذَا وُجِدَتْ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ وَكِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَصُحِّحَ فِي «جَامِعِ الْأُصُولِ» بِلَفْظَةِ كَذَا فَوْقَ: لكني

روایت ہے حضرت معاویہ ابن حکم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ قوم میں سے ایک شخص چھینکا میں نے کہا اﷲ تم پر رحم کرے ۲؎ مجھے لوگوں نے تیز نگاہوں سے دیکھا تو میں نے کہا ہائے میری ماں کا رونا ۳؎ تمہیں کیا ہوا کہ مجھے دیکھتے ہو ۴؎ تو وہ رانوں پر ہاتھ مارنے لگے ۵؎ جب میں نے دیکھا کہ مجھے خاموش کررہے ہیں تو میں بھی خاموش ہوگیا ۶؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو میرے ماں بآپ ان پر نثار میں نے ایسا اچھا سکھانے والا معلم نہ آپ سے پہلے دیکھا نہ بعد میں۔خدا کی قسم نہ مجھے ڈانٹا نہ مارا نہ برا کہا ۷؎ فرمایا کہ ان نمازوں میں انسانی کلام مناسب نہیں یہ صرف تسبیح،تکبیر اور تلاوت قرآن ہے ۸؎ یا جیسا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۹؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میرا زمانہ جاہلیت سے قریب ہے اﷲ نے ہمیں اسلام دیا اور ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں فرمایا تم وہاں نہ جاؤ ۱۰؎ میں نے کہا کہ ہم میں سے بعض پرندے اڑاتے ہیں فرمایا یہ ایسی بات ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں انہیں یہ کاموں سے نہ روکے ۱۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہم میں سے بعض لکیریں کھینچتے ہیں فرمایا ایک پیغمبر خط کھینچتے تھے جس کا خط ان کے موافق ہوگا تو درست ہے ۱۲؎(مسلم)ان کا قول سکت میں نہیں،صحیح مسلم میں یوں ہی پایا اور کتاب حمیدی میں ہے کہ جامع اصول میں لٰکنی کے اوپر لفظ کذا سے صحیح کہا ۱۳؎۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html