Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

975 -[17]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَت حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم وَلم يحل لذنب يُدْرِكَهُ إِلَّا الشِّرْكُ وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن غنم سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جو نماز مغرب و فجر سے پھرنے اور پاؤں موڑنے سے پہلے ۱؎ دس بار یہ کہہ لیا کرے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف اس کے قبضے میں خیر ہے زندگی اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۲؎ تو اس کے لیے ہر ایک کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس گناہ مٹائے جائیں گے اور دس درجے بلند کیے جائیں گے۳؎ ہر برائی سے اس کی حفاظت اور مردود شیطان سے امن ہوگی اور شرک کے سوا کوئی گناہ اسے نہ چھو سکے گا۴؎  اور وہ لوگوں سے عمل میں افضل ہوگا سوا اس کے جو اس سے زیادہ کہہ لے وہ اس سے بڑھ جائے گا ۵؎(احمد)

۱؎  یعنی مغرب کی سنتوں اور نفلوں سے فارغ ہو کر اسی طرح دو زانو بیٹھے یہ کرلیا کرے فرض مغرب مراد نہیں کیونکہ اس کے بعد سنتیں ہیں لہذا دعا مختصر مانگنی چاہیے۔

۲؎  یعنی چوتھا کلمہ خیال رہے کہ اگرچہ خیر و شر سب اﷲ کے قبضے میں ہے مگر ادب یہ ہے کہ اس کی طرف صرف خیر کو نسبت کیا جائے۔

۳؎ جب ایک کے بدلے دس ہو تو دس کے بدلے یقینًا سو ہوں گے۔

۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی اس کی برکت سے اسے گناہوں سے بچائے گا اور اگر بھول سے گناہ کرے گا تو توبہ کی بھی توفیق ملے گی اور رب تعالٰی کی طر ف سے معافی،ہاں اگر کفر کر بیٹھا تواس کی معافی نہ ہوگی یہی اس حدیث کا مطلب ہے۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ دس بار کی قید نہیں،جتنی خدا توفیق دے پڑھے۔

976 -[18]

وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ إِلَى قَوْلِهِ: «إِلَّا الشِّرْكَ» وَلَمْ يَذْكُرْ: «صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَلَا بِيَدِهِ الْخَيْرُ» وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح غَرِيب

ترمذی نے اس کی مثل ابوذر سے الاالشرك تک اور اس نے نہ نماز مغرب کا ذکر کیا اور نہ بیدہ الخیر کا اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۱؎

۱؎  یعنی یہ حدیث تین اسنادوں سے مروی ہے ایک اسناد میں حسن،ایک میں صحیح،ایک میں غریب۔

977 -[19]

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا لَمْ يَخْرُجْ مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ رَجْعَةً وَلَا أَفْضَلَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى قَوْمٍ أَفْضَلَ غَنِيمَةً وَأَفْضَلَ رَجْعَةً؟ قَوْمًا شَهِدُوا صَلَاةَ الصُّبْحِ ثمَّ جَلَسُوا يذكرُونَ الله حَتَّى طلعت عَلَيْهِم الشَّمْس أُولَئِكَ أسْرع رَجْعَة وَأَفْضَلَ غَنِيمَةً».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّامِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَحَمَّادبن أبي حميدهُوَالضَّعِيف فِي الحَدِيث

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا وہ بہت غنیمتیں لائے اور جلد لوٹ آئے ۱؎ تو ہم میں سے ایک شخص بولا جو ان میں نہ گیا تھا کہ ہم نے کوئی ایسا لشکر نہ دیکھا جو اس لشکر سے جلد لوٹا ہو اور زیادہ غنیمت لایا ہو ۲؎ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ قوم نہ بتاؤں جو غنیمت اور لوٹنے میں بہتر ہے وہ قوم ہے جو فجر کی نماز میں حاضر ہوں پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر اس کا ذکر کریں یہ لوگ جلدی لوٹنے والے اور بہتر غنیمت والے ہیں ۳؎ (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے حماد ابن ابی حمید راوی حدیث میں ضعیف ہیں۴؎

 



Total Pages: 519

Go To