Afwahon Se Bachiye

Book Name:Afwahon Se Bachiye

میں یہ کہنا کہ فلاں نگران  یا ذمہ دار اخلاص سے کام نہیں کر رہا بلکہ شہرت چاہتا ہے۔ فلاں ذمہ دار اپنے نگران کی چاپلوسی کرتا ہے ۔

6۔نظریاتی اختلافات کے بارے میں: مثلاً فلاں ذمہ دار اب تنظیم کے طریقے سے ہٹ گیا ہے۔فلاں نگران کا  اب تنظیمی ذہن نہیں رہا ۔

افواہوں  کو کیسے دور کریں ؟

پیارے اسلامی بھائیو!واضح رہے کہ دعوتِ اسلامی میں ترقی اور تنزلی کا ایک میرٹ مقرر ہے ، یہاں سفارش  اور خوشامدنہیں بلکہ ایک طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق تمام فیصلے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح دعوتِ اسلامی مسلمانوں کے چندے اور زکوٰۃ وعطیات کو شرعی تقاضوں کے مطابق خدمتِ دین کے کاموں میں صَرف کرتی ہے چندے کے معاملے میں دعوتِ اسلامی کا نظام تقویٰ اور اللہ رب العالمین کے حضور جوابدہی کی بنیاد پر قائم ہے ۔ نیز دعوتِ اسلامی میں چندے اور عطیات کے نظام کا مکمل کمپیوٹرائزڈ سسٹم ہے جو اس کی مانیٹرنگ اور چیک اینڈ بیلنس کو مضبوط اور محفوظ بناتا ہے ۔

اسی طرح نگرانوں سے متعلق مختلف قسم کی غیر مصدقہ باتوں اور افواہوں پر کان دھرنا اور ان باتوں پر یقین کرکے بلا تحقیق انہیں آگے پھیلانا درحقیقت شیطان کا آلۂ کار بننا ہے ۔ ہر نگران بلکہ ہر دعوتِ اسلامی والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود کو افواہوں سے محفوظ رکھے۔ جب بھی ان تک  کوئی خبر پہنچے تو فوراً اس پر یقین کر لینے کے بجائے اس کی تحقیق کرنے کی عادت اپنائیں۔ اگر کوئی نگران  غیر مصدقہ بات بیان کرے گا تو دوسرے لوگ بھی اسے صحیح سمجھ کر پھیلائیں گے۔ایک ذمہ دار کی شان یہ ہے کہ وہ ہر بات کو  متعلقہ شخص یا ذمہ دار سے تصدیق کرے۔ اے کاش ! ہم دوسروں کی ٹوہ میں رہنے