Afwahon Se Bachiye

Book Name:Afwahon Se Bachiye

اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّـلٰوةُ وَالسَّـلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم  بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

افواہوں سے بچئے!

درود شریف کی فضیلت                                       

اللہ پاک کے آخری نبی  صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم   نے فرمایا: جو مجھ پرسو مرتبہ در ود پاک پڑھتا ہے اللہ پاک اس کی دونو ں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتاہے کہ یہ بند ہ نفاق اور جہنم کی آگ سےآزاد ہے اور قیامت کے دن اسے شہداء کے ساتھ جگہ عطا فرمائے گا۔([1])

صلّوا علی الحبیب صلّی اللہ علیٰ محمد

5 سِنِ ہجری میں غزۂ بنی مصطلق سے واپسی پر مدینۂ منورہ کے گلی کوچوں میں ایک ایسی افواہ پھیلی جس نے اہلِ مدینہ کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہوا کچھ یوں کہ منافقوں کے سردار عبد اللہ بن اُبَی نے مسلمانوں کی امی جان حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا   پر جھوٹا بہتان باندھا اور یہ فتنہ اس قدر بڑھا کہ  بعض مسلمان بھی اس کی لپیٹ میں آگئے اور انہوں نے تحقیق کے بغیر اس بات کو آگے بیان کر دیا۔ اس افواہ نے مسلمانوں کو اضطراب میں مبتلا کردیا اور ان کے دل بے چین ہوگئے ۔ اس نازک موقع پر اللہ پاک نے سورۂ نور کی 18 آیات نازل فرما کر نہ صرف اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا   کی پاکدامنی کو واضح  فرمایا  بلکہ افواہ پھیلانے والوں کی سخت مذمت فرمائی  اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے نہ بڑھاؤ ۔ ([2]) یہ مشہور واقعہ”حدیثِ اِفک “ کے عنوان سے تفاسیر اور


 

 



[1]... معجم اوسط،5/ 252، حدیث:7235

[2]...سیرت مصطفیٰ ، ص311تا318 ملخصاً،تفسیرطبری ودرمنثور، پ18، النور، تحت الایۃ: 15تا18 ،ملخصاً