Book Name:Afwahon Se Bachiye
ایک اور روایت میں فرمایا کہ : خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا:چلئے!میں اس کے ساتھ چل دیا، میں نے دوآدمی دیکھے،ان میں ایک کھڑا اور دوسرا بیٹھا تھا، کھڑے ہوئے شخص کے ہاتھ میں لوہے کا زَنبُورتھا (یعنی لوہے کی سلاخ جس کا ایک طرف کا سِرا مُڑا ہوا ہوتا ہے)جسے وہ بیٹھے شخص کے ایک جبڑے میں ڈال کر اُسے گدی تک چِیر دیتا پھر زَنبُور نکال کر دوسرے جبڑے میں ڈال کر چِیرتا، اتنے میں پہلے والاجَبڑا اپنی اصلی حالت پرلوٹ آتا، میں نے لانے والے شخص سے پوچھا: یہ کیا ہے؟اس نے کہا: یہ جھوٹا شخص ہے اسے قِیامت تک قبر میں یہی عذاب دیا جا تا رہے گا۔ ([1]) جبکہ ایک روایت میں ہے کہ ”یہ جھوٹا شخص ہے جو جھوٹی خبریں دیتا تھا ، جو اس سے نقل کی جاتی تھیں حتیٰ کہ وہ ساری دنیا میں پھیل جاتی تھیں ، اس کے ساتھ قیامت تک یونہی ہوتا رہے گا۔“ ([2])
افواہوں سے بچناتنظیم کے لئے کس قدر ضروری ہے ؟
پیارے اسلامی بھائیو! ہم ایک دینی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہیں اور کسی بھی دینی ادارے یا تنظیم کی ترقی ومضبوطی اس کے افراد کے کردار، باہمی اعتماد اور سچائی پر قائم تعلقات سے ہوتی ہے۔ جب تک اس (دینی ادارے یا تنظیم) کے افراد ایک دوسرے پر اعتماد رکھتے ہوں، زبان و کان دونوں کی حفاظت کرتے ہوں اور تحقیق کے بغیر کسی بات کو آگے نہ بڑھاتے ہوں، مل جل کرتنظیم یا ادارے کا کام کرتے ہوں تو وہ جماعت مضبوط، متحد اور باوقار رہتی ہے۔افراد کی آپس میں ہم آہنگی تنظیمی کاموں کو بڑھا دیتی ہے۔
لیکن بعض اوقات ادارے یا تنظیم میں سنی سنائی باتیں اور غیر مصدقہ خبریں یعنی افواہیں پھیلتی ہیں جوباہم دلوں میں بدگمانیاں و غلط فہمیاں پیدا کرتی اور اعتماد کو کمزور کر دیتی