Book Name:Afwahon Se Bachiye
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے جس میں کسی کی شکایت ہو تو صرف اس کی بات پر اعتماد نہ کرو بلکہ تحقیق کرلو کہ وہ صحیح ہے یا نہیں کیونکہ جو فسق سے نہیں بچا وہ جھوٹ سے بھی نہ بچے گا تاکہ کہیں کسی قوم کوانجانے میں تکلیف نہ دے بیٹھو پھر ان کی براء ت ظاہر ہونے کی صورت میں تمہیں اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یادرہے کہ ایک متقی (یعنی نیک اور پرہیزگار مسلمان )کی خبر بغیر تحقیق کے بھی قبول کرلینی جائز ہے۔([2]) البتہ اس میں بھی احتیاط کا تقاضایہی ہے کہ اس کی تحقیق کر لی جائےکہ اکثر افواہوں کی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے وہ اس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم نے فرمایا:کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہرسُنی سنائی بات آگے بڑھادے ۔ ([3])
جھوٹی خبریں عام کرنے والوں اور افواہیں پھیلانے والوں کے کے لئے حدیثِ مبارکہ میں بہت سخت وعید بیان کی گئی ہے جیسا کہ
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ ٖوسلم نے فرمایا: بندہ اپنی زبان سے کوئی بات بولتا ہے ۔(یعنی اس کے متعلق غور وفکر نہیں کرتا کہ وہ کس قدربُری ہے اور خوف نہیں کرتا کہ اس کی وجہ سے اس پر کیا وبال آئے گا؟)اس کی وجہ سے وہ جہنم کے گڑھے میں اتنی دور تک جا گرتا ہے جتنا مشرق سے مغرب کا فاصلہ ہے۔ ([4])