Book Name:Afwahon Se Bachiye
احادیث میں موجود ہے اور قیامت تک کے مسلمانوں کو سبق دیتا ہے کہ سنی سنائی بات کو آگے بڑھانا کبھی کبھی پورے معاشرے کے سکون کو تباہ کر دیتا ہے۔افواہ صرف ایک خبر نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کے امن کو خراب کرتی ہے۔
افواہ ایک ایسی غیر مصدقہ(بغیر تصدیق کے) خبر یا بات ہے جو ایک شخص سے دوسرے تک پھیلتی ہے۔اس کی صداقت مشکوک ہوتی ہے یعنی اس خبر کے سچا ہونے میں شک ہوتا ہے ۔
پیارے اسلامی بھائیو! اسلامی تعلیمات میں یہ بات خاص طور پر بیان کی گئی ہے کہ کسی بھی خبر یا بات کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلانا درست نہیں، کیونکہ اس سے کسی بھی مسلمان کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر انسان بغیر تحقیق کیے باتوں کو دوسروں تک پہنچا دے تو بعض اوقات وہ نادانستہ طور پر کسی بے گناہ کو نقصان پہنچا بیٹھتا ہے اور بعد میں اسے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(۶) (پ26،الحجرات:6)
ترجَمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کوانجانے میں تکلیف نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے۔