Afwahon Se Bachiye

Book Name:Afwahon Se Bachiye

کی بجائے اپنا وقت خدمتِ دین کے کاموں میں صَرف کریں ۔

اسی طرح ذمہ داران کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ سنی سنائی بات کو آگے منتقل نہ کریں۔ بعض اوقات انسان محض بات چیت کے دوران کوئی خبر بیان کر دیتا ہے، لیکن وہی بات آگے چل کر افواہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور کئی دلوں میں بدگمانی پیدا کر دیتی ہے۔

مثال کے طور پر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی حلقے میں یہ بات پھیل جاتی ہے کہ فلاں ذمہ دار تنظیمی کام میں دلچسپی نہیں لے رہا یا اس نے کسی مشورےمیں تعاون نہیں کیا۔ اگر اس بات کو تحقیق کے بغیر آگے بیان کر دیا جائے تو اس سے اس شخص کی عزت متاثر ہوتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ شخص کسی مجبوری، بیماری یا کسی اور اہم دینی کام میں مصروف ہو۔ اس طرح ایک غیر مصدقہ بات بلاوجہ بدگمانی اور دل آزاری کا سبب بن جاتی ہے۔

اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جس بات کی حقیقت معلوم نہ ہو اسے آگے پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ ذمہ داران کو اپنے دلوں میں بدگمانی کو جگہ نہیں دینی چاہیے۔ جو بات سنائی دے، ضروری نہیں کہ وہ پوری طرح درست یا مکمل ہو۔ممکن ہے اس کا کوئی دوسرا رخ ہو یا حقیقت اس سے مختلف ہو۔ اس لیے حسنِ ظن اور خیر خواہی کا رویہ اختیار کرنا ایک ذمہ دار کے شایانِ شان ہےکہ وہ اپنے حلقے اور اپنے ماتحت افراد کے درمیان مثبت اور اعتماد والا ماحول قائم کرے۔ اگر ذمہ دار خود احتیاط، حکمت اور خیر خواہی کا مظاہرہ کرے گا تو اس کے ماتحت  کام کرنے والے افراد بھی اسی طرزِ عمل کو اپنائیں گے یوں تنظیمی ماحول محبت اور اعتماد سے پھلے پھولے گا۔

اور اگر کبھی واقعی کوئی مسئلہ یا شکایت سامنے آ جائے تو اسے عام کرنے کے بجائے