Iteba Shahwat Ke Tabahkariyan

Book Name:Iteba Shahwat Ke Tabahkariyan

اپنا سب کچھ سمجھنے والے آج قبروں میں اپنی کرنی کا پھل بُھگت رہے ہیں ۔یاد رکھئے!باہر سے بَظاہِر یکساں نظر آنے والی قبریں اَندر سے ایک جیسی نہیں ہوتیں،کسی کی قَبْر گُل و گلزار اور باغ و بہار ہوتی ہے جبکہ کسی کی قَبْر سُلگتی اَنگار اورسانپ بچھوؤں کا غار ہوتی ہے ،ذرا اتنا ہی غور کر لیجئے کہ نَفْسانی خواہشات میں کھو کر صِرف ایک نَماز ترک کرنے پر یا ایک بار جُھوٹ بولنے پر یا ایک بار غیبت کرنے کے سبب یا ایک بار بدنگاہی کے باعِث یاایک بارگانا سُننے یا ایک فلم دیکھنے یا ایک گالی نکالنے یا ایک بار غُصّے سے بِلا اجازتِ شَرعی کسی کو جھاڑنے یا ایک بار داڑھی مُنڈانے یا ایک مُٹھی سے گھٹانے کی سزا میں اگر پکڑ کر تنگ قَبْر کے اندر گُھپ اندھیرے اورخوفناک تنہائی میں رکھ دیا جائے توکیا گُزرے گی! یقیناً خائفین (یعنیاللہ پاک سےڈرنے والوں) کیلئے یہ تصوُّر ہی لرزہ دینے والا ہے۔یہ تو صِرف دُنیوی تصوُّر ہے ورنہ اللہ  پاک کی ناراضی کی صُورت میں مرنے کے بعد جن عذاباتِ قبر کا سامنا ہو گا، وہ کون برداشت کر سکے گا؟’’حِلْیَۃُ الْاولیاء‘‘ میں روایت ہے:جب بندہ قبر میں داخِل ہوتا ہے تو اُس کو ڈرانے کے لئے وہ تمام چیزیں آجاتی ہیں جن سے وہ دُنیا میں ڈرتا تھا اوراللہپاک سے نہ ڈرتا تھا۔(حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۱۰ص۱۲ رقم۱۴۳۱۸)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                      صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو!خواہشاتِ نَفْس اور اِتباعِ شَہوات سےبچنے  ہی میں عافیت ہے۔ جو لوگ اللہ پاک کی رِضا کی خاطر  نَفْسانی خواہشات کوچھوڑدیتے ہیں،اللہ پاک انہیں بطورِ انعام جنّت  کی اَبدی نعمتوں سے سرفراز فرماتاہے ۔چُنانچہ پارہ 30 سُوۡرَۃُ النٰزِعٰت آیت نمبر 40 ،41 میں ارشاد ہوتا ہے :

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱)

(پ 30 ،ُ النٰزعٰت آیت نمبر 40 ۔41)

تَرْجَمَۂ کنز العرفان:اوررہا وہ جو اپنے رَبّ کے حُضُور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے ۔