Iteba Shahwat Ke Tabahkariyan

Book Name:Iteba Shahwat Ke Tabahkariyan

سے بَھٹکا دیتی ہے ،خبردار!بے شک دُنیا پیٹھ پھیر نے والی ہے اوریقیناً آخرت آنے والی ہےاور ان دونوں ہی کے چاہنے والے ہیں ،پس تم آخرت کے چاہنے والے بنو اور دُنیا کے چاہنے والے نہ بنو،آج عمل ہے حساب نہیں اورکل ( قیامت میں)حساب ہوگا،عمل کا موقع نہیں ہوگا ۔(الزھد وقصر الامل ،ص:۵۸)

 حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ سے قَبْر کو دیکھ کر بَہُت زیادہ رونے کا سبب پُوچھا گیا تو فرمایا:مجھے اپنی تنہائی یاد آجاتی ہے کیوں کہ قَبْر میں میرے ساتھ لوگوں میں سے کوئی بھی نہ ہوگا، (پھر نیکی کی دعوت کے مَدَنی پُھول عنایت کرتے ہوئے)فرمایا:جس کیلئے اُس کی دُنیا قید خانہ ہے، اُس کیلئے اُس کی قَبر جنَّت اور جس کیلئے اُس کی دُنیا جنّت ہے اُس کی قَبْر اُس کیلئے قید خانہ ہے،جس کے لئے دُنیا کی زِندگی بطورِ قیدتھی موت اُس کی رِہائی کا پیغام ہے،جس نے دُنیا میں نفسانی خواہِشات کو ترک کیا وہ آخِرت میں پُورا پُورا حصّہ پائے گا،بہتر شخص وہ ہے جو کہ اس سے پہلے کہ دُنیا  اِسے چھوڑے وہ خُود دُنیا کو تَرک کر (یعنی چھوڑ)چکا ہواور اپنے پَروَردَگار سے ملنے سے قبل اُس  سے راضی ہو گیا ہو۔ہر شخص کی قَبْر کا مُعامَلہ اُس کی دُنیوی زندَگی کے مُطابِق ہے یعنی نیکیوں میں زِندگی گُزاری تو قَبْر میں راحتیں اور اگرگناہ کرتے ہوئے مَرا تو ہلاکتیں ہی ہلاکتیں۔  (موعظۂ  حسنہ، ص۶۱۔۶۲) (نیکی کی دعوت ،ص:۵۶)

پیارے اسلامی بھائیو!اللہ پاک کے نیک بندے قَبرکے اَندرونی حالات پر کتنا  غور فرمایا کرتے تھےاور دُنیا کی بے ثباتی اور خواہشاتِ نفس کی پیروی سے کس قدر دُور  رہا کرتے تھے، یقینا ًیہ حضرات جانتے تھے کہ دُنیا سے دل لگانا اور خواہشات کے پیچھے چلنا   آخرت کیلئے خَسارے کا باعث ہے  مگر  افسوس ! ہم بارہا قبرستان جاکرکتنے ہی مُردوں کو اپنے ہاتھوں سے قبرمیں بھی  اُتار چکے ہوں گے لیکن پھر بھی عبرت نہیں پکڑتےکہ خواہشات کی پیروی کرنے والے اور دُنیا ہی کو