Ramazan Ki Amad Marhaba

Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba

آغاز سے اختتام تک مَغْفِرتکے پروانے تقسیم ہوتے رہتے ہیں ، یہی وہ عظمتوں والا مہینا ہے جس میں  ربِّ کریم نے اُمّتِ محمّدیہ کو پانچ(5)خُصوصی اِنعامات عطا فرمائے ہیں ، چنانچہ

پانچ(5)خُصوصی کرم

حضرت جابِر بن عَبْدُاللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  سے رِوایت ہے ، رحمت والے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : میری اُمّت کو رَمَضَان المبارَک میں پانچ(5) چیز یں ایسی عطا کی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں : (1) جب رَمَضانُ الْمبارَک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ پاک اُن کی طرف رَحمت کی نَظَر فرماتا ہے اور جس کی طرفاللہ پاک رَحمت کی نظر فرمائے اُسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔ (2)شام کےوَقت اُن کے مُنہ کی بُو(جوبُھوک کی وجہ سے ہوتی ہے)اللہ پاک کے نزدیک مُشْک کی خوشبو سےبھی زیادہ بہترہے۔ (3)فِرِشتے ہر رات اور دن اُن کے لئے مَغْفِرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ (4)اللہ پاک جنّت کو حکم فرماتاہے : میرے(نیک)بندوں کیلئے آراستہ ہوجا ، عَنْقَریب وہ دنیا کے دکھوں سے میرے گھر اور کرم میں سُکون پائیں گے۔ (5)جب رَمَضان الْمبارَک کی آخِری رات آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مَغْفِرت  فرمادیتا ہے۔ قَوم میں سے ایک شَخص نے کھڑے ہو کر عَرْض کی ، یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ!کیا یہ “ شبِ قدر “ ہے؟اِرْشادفرمایا : نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مَزدور جب اپنے کاموں سے فارِغ ہوجاتےہیں تواُ نہیں مزدوری دی جاتی ہے۔ (الترغیب والترہیب ، الترغیب فی صیام رمضان۔ ۔ الخ ، ۲ / ۵۶ ، حدیث : ۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                            صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد  

اے عاشقانِ رَمَضان!آپ نے سُنا کہ رَمَضان المبارَک کی شان و عظمت کس قدر بُلند  وبالا  ہے! اس مُقَدَّس مہینےمیں اللہ کریم کی رَحمت اس کے بندوں پر مہربان ہوتی ہے ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان