Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
حدیث : ۲۴۳۷ماخوذاً)* اَہلِ قرآن( یعنی اس کی تلاوت کرنے والےاور اس کے احکامات پر عمل کرنے والے)اللہ والے اور اس کے خاص لوگ ہیں۔ (ابن ماجہ ، ۱ / ۱۴۰ ، حدیث : ۲۱۵۔ اتحاف السادۃ ، ۵ / ۱۳)* تلاوتِ قرآن اس اُمَّت کی افضل عبادت ہے۔ (شعب الایمان ، ۲ / ۳۵۴ ، حدیث : ۲۰۲۲)* جو نماز میں کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے سو(100)نیکیاں ہیں۔ * جو بیٹھ کر تلاوت کرے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے پچاس(50)نیکیاں ہیں۔ * جو نماز کے علاوہ وضو کی حالت میں تلاوت کرے اس کے لئے پچیس(25)نیکیاں ہیں۔ (احیاالعلوم ، ۱ / ۳۶۶)* تلاوتِ قرآن دِلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ (شعب الایمان ، التاسع عشر من شعب الایمان۔ ۔ ۔ الخ ، فصل فی ادمان تلاوتہ ، ۲ / ۳۵۲ ، حدیث : ۲۰۱۴ماخوذا)
اللہ کریم ہمیں تلاوتِ قرآن کا ذوق و شوق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!روزے کےتین(3) دَرَجے ہیں : (1)عوام کا روزہ ، (2) خَواص کا روزہ اور(3) اَخَصُّ الْخَواص کا روزہ۔ آئیے!اب اِن میں سے ہر ایک کی وضاحت سُنتے ہیں :
(1)عوام کا روزہ : روزہ کے لُغوی معنٰی ہیں : “ رُکنا “ ۔ شریعت کی اِصطِلاح میں صُبحِ صادِق سے لے کر غُروبِ آفتاب تک جان بوجھ کر کھانے پینے اوراِزْدواجی معاملات کرنے سے “ رُکے رہنے “ کو روزہ کہتے ہیں اور یہی عوام یعنی عام لوگوں کا روزہ ہے۔ (2)خواص کا روزہ : کھانے پینے اوراِزْدواجی معاملات کرنےسے رُکے رہنے کے ساتھ ساتھ جِسم کے تمام اَعْضاء کو بُرائیوں سے “ روکنا “ خَوَاص یعنی خاص لوگوں کا روزہ ہے۔ (3)اَخَصُّ الْخَواص کا روزہ : اپنے آپ کو تمامکاموں سے “ روک “ کر صِرف و صِرف اللہ کریم کی طرف مُتَوَجِّہ ہوجانا ، یہ اَخَصُّ الْخَواص یعنی خاصُ الخاص لوگوں کا روزہ ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ ، کتاب الصوم ، ص۱۷۵ مفہوماً)(فیضانِ رمضان ، ص۹۰ملخصاً)