Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
قدموں پرقربان کردی اور اپنی تمام عُمَر پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدمَت کرتے ہوئے گزاری۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی مبارَک زندگی میں رسولِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی اور سے نِکاح نہ فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہا تقریباً 25سال رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نکاح میں رہیں۔ اِعلانِ نُـبُوّت کے دسویں سال10رَمَضانُ المبارَک کو وِصال فرمایا۔ وصال کے وَقْت آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی عُمْرِ مبارَک65 سال تھی ، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَامکے شریف کے مشہور قبرستانجَنَّتُ الْمَعْلٰیمیں آرام فرما رہی ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی سیرت کے بارے میں مزید معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی کتاب “ فیضانِ اُمَّہَاتُ الْمُؤمنین “ صفحہ31تا39اوررسالہ “ فیضانِ خدیجۃُ الکبریٰ “ کا مطالعہ فرمائیے۔ دعوتِ اسلامی کی ويب سائٹ www.dawateislami.net سے اِس کتاب اور رسالے کو پڑھابھی جاسکتا ہے ، ڈاؤن لوڈ(Download)اورپرنٹ آؤٹ(Print Out) بھی کيا جا سکتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اےعاشقانِ رسول!آئیے! ساداتِ کرام کی تعظیم کے بارے میں چند مَدَنی پھول سُننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ پہلے2فرامینِ مُصْطَفٰےصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سنتے ہیں : (1)فرمایا : جو میرے اَہلِ بَیْت(رَضِیَ اللہُ عَنْہُم)میں سے کسی کے ساتھ اچّھا سُلُوک کرےگا ، میں قِیامت کے دن اِس کا بَدْلَہ اُسے عطا کروں گا۔ (جامع صغیر ، ص۵۳۳ ، حدیث : ۸۸۲۱)(2)فرمایا : جو شخص حضرت عَبْدُالْمُطَّلِب کی اَوْلادِمیں سے کسی کے ساتھ دُنیا میں بھلائی کرے اُس کا بَدْلَہ دینا مجھ پر لازِم ہے جب وہ قِیامت کے دن مجھ سے مِلے گا۔ (تاریخ بغداد ، ۱۰ / ۱۰۲ ، حدیث : ۵۲۲۱)* ساداتِ کرام کی تعظیم فرض ہے اور اُن کی