Book Name:Quran-e-Pak Aur Naat-e-Mustafa

سُبْحَانَ اللہ !ہمارے آقا،مکی مدنی مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو بہت کچھ عطاکیا گیااور بہت کچھ عطا کیا جائے گا۔آئیے سُنتے ہیں حوضِ کوثر کیاہے! اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایک حوض عطا فرمایا ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں (یعنی میٹھا)، مُشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔جو ایک مرتبہ پئے گا پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ حضورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے اپنی اُمّت کو سیراب فرمائیں گے۔( کتاب العقائد،ص ۳۶ ملخصاً)

قِیامت کے دن جب نَفسا نفسی کا عالَم ہوگا اورگرمی کی  شِدّت سے لوگوں کی زبانیں سُوکھ کر کانٹا بَن چکی ہوں گی  ایسے وقت میں وہ لوگ خوش نصیب ہوں گے جنہیں اللہ پاک اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حوضِ کوثر سے سیراب کرے گا۔ روایات میں ایسی نیکیوں کا بیان موجود ہے جن کی برکت سے جامِ کوثر نصیب ہوگا، ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ ٭آبِ کوثراُس کو نصیب ہوگاجو دُرودِ پاک کی کثرت کرنے والا ہوگا۔٭آبِ کوثراُس کو نصیب ہوگاجوروزے دارکوکھانا کِھلانے والا ہوگا۔٭آبِ کوثراُس کو نصیب ہوگاجو غیر ضروری گفتگو  سے بچتاہوگا۔٭آبِ کوثراُس کو نصیب ہوگاجو راہِ خدا کے مُسافروں کو پانی پِلانے  والا ہوگا۔(ماہنامہ فیضانِ مدینہ صفرالمظفر ۱۴۴۱ھ، ص۲۱ ملخصاً و ماخوذاً)

ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا                                            پیتے ہم ہیں پِلاتے یہ ہیں

(الاستمداد، ص۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

تیرے چہرۂ  نورِ فزا کی قسم

       پیارے پیارےاسلامی بھائیو!ہم قرآنِ کریم میں بیان کردہ حضورنبیِ رحمت،