Book Name:Quran-e-Pak Aur Naat-e-Mustafa

شفیعِ اُمّت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعریف اوراوصاف کے بارے میں سُن رہے تھے،ربّ کریم نے اپنے پاکیزہ کلام میں اپنے محبوب  کی طرح طرح سے تعریف بیان  فرمائی ۔ کہیں تو   کئی کئی آیات  میں حضورِ انور،شافعِ محشرصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعت موجودہے تو کہیں پوری پوری سورت ہی محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاوصاف بیان کرتی نظر آتی ہے، کہیں محبوب کے قدموں کو لگنے والی خاک کی قسم بیان فرمائی ہے  توکہیں  محبوب  کے مبارک شہر کی قسم بیان فرمائی ہے ۔کہیں محبوب سے نسبت رکھنےوالی چیزوں کی عظمت و رفعت کو بیان فرمایا ہے تو کہیں  محبوب  کے مُبارک   چہرے کی قسم بیان فرمائی ، کہیں  محبوب کی رات کی تاریکی میں  عبادت  کرنے کوبیان فرمایا تو کہیں محبوب کے خُلْقِ عظیم کو بیان فرمایا ہے، کہیں اپنے محبوب کی تعظیم کے بارے میں ایمان  والوں کو بتایا تو کہیں اپنی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے محبوب کی اطاعت کو  لازم قرار دیا ،کہیں محبوب کی سیاہ زلفوں کا تذکرہ فرمایا تو کہیں محبوب کے معراج پر جانے کو بیان فرمایا،کہیں حضور کے مومنوں پر رؤف ورحیم ہونے کو بیا ن فرمایا تو کہیں اپنی مَحبّت کامعیاراپنے محبوب کی اتّباع کوقرار دیا،الغرض سارا قرآن حضور کی نعت ہے۔

        سورۂ وَالضُّحیٰ  ہی کودیکھ  لیجئے،یہ مکمل سورت ہی حضور  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تعریف  پر مشتمل ہے ، بالخصوص اس کی ابتدائی دو آیات میں تو  بڑے ہی نِرالے انداز میں مُصطَفٰے کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےمُبارک  چہرےکو چاشت  کے ساتھ اور مُبارک زلفوں کو رات کی تاریکی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چنانچہ

       ربِّ کریم ارشاد فرماتاہے:

وَ الضُّحٰىۙ(۱) وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ(۲) (پ:۳۰، الضحیٰ:۲،۱)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان:چاشت کی قسم اور رات کی