Book Name:Quran-e-Pak Aur Naat-e-Mustafa

ہے کہ اللہ پاک اپنی پہچان اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذریعے سے کرواتا ہے۔

(2)(اللہ پاک نے )حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم ماننا فرض قرار دیا اور اس بات کو اپنے ربّ ہونے کی قسم کے ساتھ پختہ کیا۔

(3) (اللہ پاک نے )حضور ِاکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم ماننے سے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا۔

(4) رسو لِ کریمصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم دل و جان سے ماننا ضروری ہے اور اس کے بارے میں دل میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ اسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا کہ پھر اپنے دلوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کے متعلق کوئی رکاوٹ نہ پائیں اور دل و جان سے تسلیم کرلیں۔

(5) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی احکام کا ماننا فرض ہے اور ان کو نہ ماننا کفر ہے نیز ان پر اعتراض کرنا، ان کا مذاق اُڑانا کفر ہے۔(از تفسیرِ صراط الجنان، ۲/۲۳۹و ۲۴۰)

میں تو مالِک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب              یعنی محبوب و مُحِبّ میں نہیں میرا تیرا

(حدائقِ بخشش،ص۱۶)

مختصر وضاحت:یعنی ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  چونکہ تمام جہان کے خالق و مالک کے حبیب ہیں ، یوں آپ تمام جہان کے مالک ہوئے۔ کیونکہ محب کی ہر شے محبوب کی ہی ہوتی ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

خُدا چاہتاہے رضائے محمد

            پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آئیے ایک اورواقعہ،آیتِ کریمہ  شانِ  نزول اور تفسیری نکات کےساتھ سنتے ہیں: