Book Name:Quran-e-Pak Aur Naat-e-Mustafa

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حضور پیش کیا گیا۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو۔ حضرت زبیررَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو پہلے پانی کی اجازت اس لئے دی گئی کہ ان کا کھیت پہلے آتا تھا، اس کے باوجود سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انصاری کے ساتھ بھی احسان کرنے کا فرما دیا، لیکن مجموعی فیصلہ انصاری کو ناگوار گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ باوجود اس کے کہ فیصلے میں حضرت زبیررَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو انصاری کے ساتھ احسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی، لیکن انصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کرکے پانی روک لو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب الصلح، باب اذا اشار الامام بالصلح۔۔۔ الخ، ۲/۲۱۵، الحدیث: ۲۷۰۸ از تفسیر صراط الجنان، ۲/۲۳۹ )

اللہ پاک ارشاد فرماتاہے :

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۶۵) (پ۵،النساء:۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراطُ الجنان میں جو مدنی پھول درج ہیں ، آئیے! ان میں سے چند سنتے ہیں:(1) اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے ربّ ہونے کی نسبت اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف فرمائی اور فرمایا: اے حبیب! تیرے ربّ کی قسم۔ یہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم شان