Book Name:Faizan-e-Rabi-ul-Awaal

مسجد بندہو،ہم نےمل جُل کر صفائی کی،نمازِعصرکےبعدمدنی دورہ کےلئےکھیل کےمیدان میں پہنچےاور کھیلنےمیں مشغول نوجوا نوں کونیکی کی دعوت دی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! کئی نوجوان ہاتھوں ہاتھ(اُسی وقت)ہمارے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہو گئے، مسجدمیں آکرہمارےساتھ نماز پڑھنےاورسنّتوں بھرا  بیان  سُننےکی سعادت حاصل کی،انفرادی کوشش سےانہوں نے اُس مسجدکوآبادکرنے کی نیت کرلی۔یہ منظردیکھ کروہاں موجودایک بُزرگ آبدیدہ  ہوکرکہنےلگے،میں تو لوگوں سےمسجدآباد کرنے کاکہتارہتاتھا،مگرمیر ی سُنے کون؟اَلْحَمْدُلِلّٰہ!آج عاشقانِ رسو ل کے علاقائی دورے  کی برکت سے ہماری مسجدآباد ہوگئی ہے۔

نہ ’’نیکی کی دعوت‘‘ میں سُستی ہو مُجھ سے                        بنا شائقِ قافِلہ یاالٰہی

(وسائلِ بخشش مرمّم،ص۱۰۳)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

      پیارے پیارےاسلامی بھائیو!ہم رَبِیْعُ الْاَوَّل کےفضائل وبرکات اور اس ماہِ مقدّس میں کئےجانےوالےنیک اعمال کےمتعلق سن رہےتھے،ہمارے بزرگا نِ دین بہت زیادہ ادب و احترام،عبادت و ریاضت اور اہتمام کےساتھ اس مبارک ومقدّس مہینے کو گزارتے تھے،اس مبارک مہینےمیں خصوصیت کےساتھ نبی کریم،رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کا میلادشریف مناتے،خوب صدقہ وخیرات کرتے،غریبوں،تنگدستوں اورلاچاروں کی مددفرماتے تھے، آئیے! میلادشریف منانے کاایک واقعہ   سنتے ہیں:چنانچہ  

رَبِیْعُ الْاَوَّل اور اربل کا بادشاہ

       اِرْبِل کے بادشاہ جن کا نام ابُو سعىدمظفّر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہہے، یہ عظیم فاتح سلطان صلاحُ الدّین  ایوبی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے بہنوئی تھے، یہ بادشاہ بہت سخی، نیک اور عادل ہونےکے ساتھ عالم بھی تھے ،