Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
بھی اُتنا ہی زیادہ ملے گا۔جیسا کہ منقول ہے:اَفْضَلُ الْعِبَادَاتِ اَحْمَزُھَا افضل عبادت وہ ہے جس میں تکلیف زِیادہ ہو۔
( تفسیر کبیر،پ۲۹، المزمل،تحت الآیۃ:۶،۱۰/۶۸۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول اسلامی بہنو! رَمَضانُ المبارَک کے مہینےمیں عموماً کثیر عاشقانِ رَمَضان اسلامی بہنیں انتہائی ذَوق وشَوق کے ساتھ کثرت سےتلاوت کرتی نظر آتی ہیں مگر آہ!کئی بدنصیب اس مقدَّس مہینے میں بھی اِس عظیم سعادت سے محروم رہتی ہیں،ہمیںاِس مُعامَلے میں اپنے بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے اُن کے نَقْشِ قدم پر چلنا چاہیے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ ہمارے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْناِس مُقَدَّس مہینے میں ایک بارنہیں بلکہ دن میں کئی مرتبہ ختمِ قرآن کی سعادت حاصِل کیا کرتے تھے،چنانچہ
سَیِّدُنا سعد بن ابراہیمرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے معمولات
حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ رَمَضانُ المبارَک میں اِکیسویں،تیئسویں،پچیسویں، ستائیسویں اور اُنْتِیْسْو ِیں کو اُس وَقْت تک اِفطار نہ فرماتے تھے جب تک کہ قرآنِ کریم ختم نہ کرلیتے، مغرب و عشاء کےدرمیان اُخْروِی مُعامَلے میں غَور وفِکْر کرتے رہتے اور اکثر اِفطار کے وَقْت مجھے مسکینوں کو بُلانے کے لئے بھیجتے تاکہ وہ بھی اُن کے ساتھ کھائیں۔
( حلیۃ الاولیاء ،سعد بن ابراہیم الزہری ، ۳/۱۹۹،رقم:۳۶۹۵)
سُبْحٰنَ اللہ!قُرآن سے مَحَبَّت،شوقِ تلاوت اور رَمَضان کی قدرکرنا تو کوئی اِن حضرات سے سیکھے جو