Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ (شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی ادمان تلاوتہ، ۲/۳۵۲، حدیث: ۲۰۱۴ماخوذا)
اللہ کریم ہمیں تلاوتِ قرآن کا ذوق و شوق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول اسلامی بہنو!روزے کےتین(3) دَرَجے ہیں:(1)عوام کا روزہ، (2) خَواص کا روزہ اور(3) اَخَصُّ الْخَواص کا روزہ۔آئیے!اب اِن میں سے ہر ایک کی وضاحت سنتی ہیں:
(1)عوام کا روزہ:روزہ کے لُغوی معنٰی ہیں:”رُکنا”۔شریعت کی اِصطِلاح میں صُبحِ صادِق سے لے کر غُروبِ آفتاب تک جان بوجھ کر کھانے پینے اوراِزْدواجی معاملات کرنے سے”رُکے رہنے”کو روزہ کہتے ہیں اور یہی عوام یعنی عام لوگوں کا روزہ ہے۔(2)خواص کا روزہ:کھانے پینے اوراِزْدواجی معاملات کرنےسے رُکے رہنے کے ساتھ ساتھ جِسم کے تمام اَعْضاء کو بُرائیوں سے”روکنا”خَوَاص یعنی خاص لوگوں کا روزہ ہے۔(3)اَخَصُّ الْخَواص کا روزہ:اپنے آپ کو تمامکاموں سے”روک”کر صِرف و صِرف اللہ کریم کی طرف مُتَوَجِّہ ہوجانا،یہ اَخَصُّ الْخَواص یعنی خاصُ الخاص لوگوں کا روزہ ہے۔
(الجوھرۃ النیرۃ،کتاب الصوم،ص۱۷۵ مفہوماً)(فیضانِ رمضان،ص۹۰ملخصاً)
اے عاشقانِ رسول اسلامی بہنو! روزے کی حالت میں ہمیں جس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم کھانے پینےوغیرہ سے ’’رُکےرہنے ‘‘کے ساتھ ساتھ اپنے تمام اَعضائے