Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
اَعضاء کوبھی گناہوں سے بچاتے ہوئے روزے کا پابند کرنے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:صِرف کھانےاور پینے سے باز رہنے کا نام روزہ نہیں بلکہ روزہ تو یہ ہے کہ بے فائدہ اور فحش کلامیکرنےسے بچا جائے۔اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے یا تمہارے ساتھ بُرا سُلوک کرے تو کہہ دو”میں روزے سے ہوں”۔
(مُستَدرَک،کتاب الصوم،باب من افطر فی رمضان ناسیا …الخ،۲/۶۷،حدیث: ۱۶۱۱ )
آئیے!اب اَعضاء کے ذریعے گناہوں کی چند مثالیں مُلاحَظہ کیجئے،چنانچہ
آنکھ کا گناہ یہ ہے کہ اِس سے اللہ پاک کی حرام کردہ چیزیں دیکھنا،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی آنکھوں کو حرام دیکھنے سے بچائےاور آنکھ کا روزہ رکھے،اِس طرح کہ آنکھ جب بھی اُٹھے تو صِرْف و صِرْف جائز کاموں ہی کی طرف اُٹھے۔آنکھ سے قرآنِ کریم دیکھئے، کعبے شریف کے اَنوار دیکھئے ،مکّے شریف کی مہکی مہکی گلیاں(Streets)دیکھئے،گنبدِ خضریٰ کا نورانی جلوہ دیکھئے،صحرائے عَرَ ب کا حَسین نظارہ دیکھئے۔
کانوں کا گناہ یہ ہے کہ اِس سے اُن باتوں کو سُننا جن سے اللہ کریم نے منع فرمایا ہے،لہٰذا ہرگز ہرگز کانوں سے گانے باجے نہ سُنئے،جھوٹے چُٹکلے نہ سُنئے ،کسی کیغِیْبَت و چُغلی اورکسی کے عیب نہ سُنئے،جب دو اسلامی بہنیں چُھپ کر بات کریں تو کان لگا کر نہ سُنئے۔کانوں کا روزہ رکھئے!وہ یوں کہ صرف و صرف جائز باتیں سُنئے،مَثَلاً کانوں سے تلاوت،حمد و نعت اور بزرگوں کی منقبتیں،سُنّتوں بھرے بیانات و مَدَنی مذاکرے اور اچھیاچھی باتیں سُنئے وغیرہ۔