Ramazan Ki Amad Marhaba

Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba

ہوجاتےہیں تواُ نہیں مزدوری دی جاتی ہے۔         (الترغیب والترہیب، الترغیب فی صیام رمضان۔۔الخ، ۲/۵۶، حدیث:۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                   صَلَّی اللّٰہُ  عَلٰی مُحَمَّد  

اے عاشقانِ رسول اسلامی بہنو!آپ نے سُنا کہ رَمَضان المبارَک کی شان و عظمت کس قدر بُلند  وبالا  ہے! اس مُقَدَّس مہینےمیں اللہ کریم کی رَحمت اس کے بندوں اور بندیوں پر مہربان ہوتی ہے،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان رَجَب شریف کے مبارَک مہینے سے ہی اِس کی تَیّاری شروع کردیتے اورعبادت و تلاوت کرکے ربِّ کریم کو راضی کرنے کا سامان کرتے،مگر آہ!مسلمانوں کی بھاری اَکْثَرِیَّت دیگرمہینوں کی طرح اِس مہینے کو بھی غفلتوں میں گزاردیتی ہے۔

روزے میں وَقْت”پاس”کرنا

اسی طرح بعض خواتین اگرچِہ روزہ تو رکھ لیتی ہیں مگر پِھر اِن کا وَقْت”پاسنہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ بھی رَمَضان شریف کے اِحتِرامِ کو ایک طرف رکھ کر حرام و ناجائز کاموں کا سَہارا لے کر وَقْت”پاس”کرتی  ہیں۔

افضل عبادت کون سی ہے؟

اے عاشقانِ رسول اسلامی بہنو! رَمَضانُ الْمبارَک کے مُقدّس لَمحات کو فُضُولیات میں برباد ہونے سے بچایئے!زندگی بے حد مُخْتَصَرہے،اِس کو غنیمت جانئے، مختلف کھیلوں اور گانے سننے کے ذرِیعے وَقْت”پاس”(بلکہ برباد)کرنے کے بجائے تلاوتِ قُرآن اور ذِکْر و دُرُود میں وَقْت گُزارنے کی کوشِش فرمائیے۔ بُھوک و پیاس کی شِدّت جس قَدر زیادہ مَحسوس ہوگی، صَبْر کرنے پر اِنْ شَآءَ اللہ ثواب