Book Name:Ramazan Ki Amad Marhaba
کردیا۔ (حُجَّۃ اللہِ عَلَی الْعٰلَمِین، ص ۵۷۷ ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول اسلامی بہنو!بَیان کردہ واقعے سے معلوم ہوا!مسلمان سخاوت کرنے والا،اپنی پسند پر دوسروں کو ترجیح دینے والا اور دُکھ تکلیف میں دوسرے مسلمانوں کے کام آنے والا ہوتا ہے۔افسوس!اب ہمارے دل مسلمانوں کی خیر خواہی کے جذبے سے خالی ہوتے جارہےہیں، ہم خود تو اچھا کھاتی،اچھاپہنتی اور عالیشان زندگی گزار تی ہیں،ماہِ رَمَضان میں سَحَرِی و اِفطاری میں بھی مختلف اَقسام کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھاتی ہیں مگرآہ!غریب و محتاج رشتے داروں،پڑوس کی اسلامی بہنوں اور دیگر اسلامی بہنوں کی خیر خواہی کرنا اب ہم کسی بُھولی ہوئی چیز کی طرح بُھلاچکی ہیں۔بہرحال ہمیں چاہئے کہ ہم اِن پاک ہستیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے رَمَضان و غیرِ رَمَضان میں عَمَلی طور پر اسلامی بہنوں کی خَیر خواہ بن جائیں۔
یاد رہے!مسلمانوں کو اِفطاری کروانا اور اُنہیں پانی پِلانا بھی خَیر خَواہی کی ہی ایک صورت ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ماہِ رَمَضان میں اِفطار کروانے اور پانی پِلانے کی بہت فضیلت ہے،چنانچہ
آقا کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشادفرمایا:جس نے حَلال کھانےیا پانی سے(کسی مُسلمان کو) روزہ اِفْطَار کروایا،فِرِشتے ماہِ رَمَضان کے اَوْقات میں اور جِبْرِیلِ امین(عَلَیْہِ السَّلَام)شَبِ قَدْرمیں اُس کے لئےبخشش کی دُعا کرتے ہیں۔
(معجم کبیر،۶/۲ ۶ ۲،حدیث:۶۱۶۲ ملتقطاً)
ایک اور مقام پر فرمایا:جو روزہ دار کو پانی پِلائے گا اللہکریم اُسے میرے حَوض سے پلائے گا کہ جَنَّت میں داخِل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ ( ابن خُزَیمہ،کتاب الصیام،باب فضائل شھر رمضان۔۔۔الخ،۳/۱۹۱، حدیث:۱۸۸۷ )