Book Name:Tarke Jamaat ki Waeidain

پڑھنےوالا نہ صِرف نِفاق (یعنی منافقت) جیسی بُری خَصْلَتْ سے محفوظ ہوجاتا ہے بلکہ نارِ جَہنَّم سے بھی اَمان پاتا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُناامام شرفُ الدِّین حُسین بن محمدطیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:نِفاق سے بَراءَت کا مَطْلَب یہ ہے کہ وہ دُنیامیں مُنافِق جیسے اَعمال سےمحفو ظ ر ہے گا اوراسے مُخْلِصِین جیسے اَعمال کرنے کی توفیق ملے گی نیز آخرت میں نار ِجَہنَّم سے اَمن میں رہے گا جس میں مُنافِق کو عذاب دیا جائے گایا پھر مُرادیہ ہے کہ اس کیلئے اس بات کی گواہی دی جائے گی کہ یہ مُنافِق نہیں ہے، کیونکہ مُنافِقین جب نماز کیلئے  کھڑے ہوتے ہیں تو سُستی سے کھڑے  ہوتے  ہیں جبکہ اس کا  حال ان کے بَرعکس ہے۔  (شرح الطیبی ، ج ۳ ص ۷۵)

          میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!نمازِباجماعت کی اس قَدربَرکتوں اورفضیلتوں کےباوُجُود سُستی کرنا اور جماعت سے نماز نہ پڑھنا کس قَدرتَعَجُّب خیزہے؟مگرافسوس!جماعت کی پروا نہیں کی جاتی،بلکہ نَمازبھی اگرقَضاہوجائے تو کوئی رَنْج نہیں، مگر ہمارے اَسلاف کی تو یہ حالت تھی کہ اگر اِن کی تکبیرِ اُولیٰ کبھی فَوت ہوجاتی تو اُنہیں اِس قَدر صَدمَہ ہوتا جیسے بہت بڑا نُقْصان ہوگیا ہو،یہ حضرات دُنْیاومَافِیْہَا(یعنی یہ دُنیا اوراس میں جوکچھ بھی ہے)سےتکبیرِ اُولیٰ کوزِیادہ اَہَمّ سمجھتے تھے اور حَقیقَت بھی یہی ہے۔چُنانچِہ حضرتِ سَیِّدُنااِمام محمد غَزالیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:مَروِی ہے کہ سَلَف صالِحین یعنی پُرانے بُزُرْگوں کے نزدِیک نَماز کی کچھ اس قدر اَہَمِّیَّت تھی کہ اگر اُن میں سے کسی کی تکبیرِ اُولیٰ فَوت ہوجاتی تو تین(٭) دن تک اس کا اَفْسوس کرتے رہتے اوراگر کسی کی کبھی جماعت فَوت ہوجاتی تو اس کاسات(7) روز تک غَم مَناتے۔( مکاشفۃ القلوب،ص ۲۶۸) ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اپنے اَندرنمازِ باجماعت کی اَہَمیَّت اوراس کی مَحَبَّت پیدا کریں اوراپنے بچوں کو بھی شروع سے ہی جماعت سے نمازپڑھنے کی عادت ڈالیں۔

تکبیرِ اُولیٰ چھوٹنے پر بیٹے سے باز پُرس