قرض کی ادائیگی

”مال“انسان کی بنیادی ضَروریات میں سے ایک ہے۔  جب تک بقدرِ ضَرورت مال میسر رہے،زندگی مسکراتی ہوئی گزرتی ہے، لیکن جب جیب خالی ہونے لگے اورطلوع ہونے والا سورج ایک نیا خرچہ لئے نمودار ہو تو زندگی کی گاڑی کا پہیہ رکنے لگتا ہے۔ ایسے میں کبھی تکمیلِ ضَروریات کے لئے قَرْض جیسے”شجرِ خاردار“ تلے  بھی پناہ لینی پڑتی ہے۔ اسلام نے جس طرح غریبوں، کمزوروں اور محتاجوں کی مدد کیلئے صدقات و خیرات اور زکوٰۃ و عطیات کا بہترین نظام (System) دیا ہے اسی طرح ضَرورت مندوں کو قرض دینے کی بھی خوب حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ بلکہ صدقہ کا ثواب دس گُنا اور قرض کے ثواب کو اٹھارہ گُنا  رکھا، کیونکہ صدقہ تو غیرحاجت مند بھی لیتا ہے مگر قرض ضَرورت مند ہی لیتا ہے۔(ابن ماجہ،ج3،ص154،حدیث: 2431ملتقطاً و ماخوذاً)قرض دینے کے فضائل (1)ہر قرض صَدَقہ ہے۔(شعب الایمان،ج3،ص284، حدیث: 3563) (2)جو مسلمان کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرض ديتا ہے تو وہ ایسے ہوتا ہے جیسے ایک مرتبہ صَدَقہ کیاہو۔(ابن ماجہ،ج3،ص153، حديث:2430) قرض دینا کارِ دشوار ہے آج قرض دبا لینے والوں کی بہتات اور باوجود قُدرت کے واپس نہ کرنے اورجُھوٹے بہانے تَراش کر قرض خواہ کو تنگ کرنے اوربار بار چکر لگوانے کے باعث  یہ  نیک عمل ”کارِ دشوار“ بن چکا ہے۔ سوچئے کہ ایک شخص احسان کرے اور ضَرورت میں کام آئے اور بدلہ یہ پائے کہ اپنی ہی چیز کو پانے کے لئے سرگرداں رہے، یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے؟ اولین ترجیح قرض سے بچنا اولین ترجیح  ہونی چاہئے۔ آمدنی کے مطابق دانشمندی سے بقدرِ ضَرورت خرچ کرنا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے جبکہ بے جا رسم و رواج اور فضول خواہشات کی تکمیل کے لئے اخراجات بڑھا لینا اور قرضوں کے بوجھ میں دبتے چلے جانابے وقوفی ہے۔قرض لینا اگرچہ جائز ہے مگر اس سے بچنے میں عافیت ہے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قرض سے اللہ  تعالیٰ کی پناہ مانگتے۔ کسی نے وجہ دریافت کی تو فرمایا: آدمی جب قرض دار ہوتو بات کرتے ہوئے جُھوٹ بولتا ہے،وعدہ کرتا ہے تو توڑدیتا ہے۔ (بخاری،ج 2،ص108، حدیث:2397 ملخصاً)قرض لینے سے پہلے کچھ باتوں کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے: معاہدہ اور گواہوں کی موجودگی قراٰنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئےقرض کی مکمل تفصیلات تحریری صورت میں لانے کے ساتھ اس پر گواہ ضَرور  بنانے چاہئیں تاکہ کل ضَرورت پڑنے پر وہ گواہی دے سکیں۔ واپسی کی پکی نیّت قرض لے کر اسے ہڑپ کرنےکی بجائے واپسی کی پکی نیّت ہو۔ بندے سے نیّت پوشیدہ ہے مگر اللہ  تعالیٰ دلوں کے حال سے خوب واقف ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جس نےادا کرنے کی نیّت سے قرض لیا اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا فرما دیتا ہے اور جس نے نقصان پہنچانے کی نیت سے قرض لیا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔ (بخاری،ج2،ص105، حدیث:2387) ادائیگی کیسے ہوگی؟ یہ بہت ضَروری ہے کہ قرض لینے سے پہلے واپسی کا طریقۂ کار بنا لیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ذرائع آمدن کچھ نہ ہوں مگر قرض دینے والے کو جُھوٹے آسرے دیئے ہوئے ہوں۔ ایسی صورت میں نتیجہ تعلقات کی خرابی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ واپسی کی تاریخ مُقَرَّر ہو قرض لیتے وقت ادائیگی کی تاریخ متعین کر نا  مفید ہے۔ تاریخ ایسی مقرر کی جائے جو مزید تاریخ کی محتاج نہ ہو۔ تاریخ پر تاریخ لینا ناخوشگوار حالات سے دوچار کر سکتا ہے اور ایسا کرنا بہترین ادائیگی سے بھی بہت دور ہے۔بہتر یہ ہے کہ وقت پر خود جا کر قرض ادا کیا جائے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے۔(بخاری،ج2،ص107، حدیث:2393)اچھے طریقے سے ادائیگی جب قرض لیا جائے تو اچھے طریقے سے ادا کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ قرض خواہ کو خوب تنگ کرنے کے بعد قرض واپس کیا جائے۔قرض میں بِلا وجہ  تاخیر کر کے، بدنامی کا طوق گلے میں ڈالنے اور دوست احباب کی ”ملامت “ کے بعد قرض واپس کیا بھی تو کیا کمال کیا! فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:(قرض دار) غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔(بخاری،ج 2،ص109، حدیث: 2400، عمدۃالقاری،ج 8،ص646،تحت الحدیث: 2287)

اللہ تعالیٰ ہمیں قرض کے بوجھ سے محفوظ رکھے اور جن پر قرض ہے انہیں جلد لوٹانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ فیضان صحابہ واہل بیت ،المدینۃ العلمیہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code