- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
- باب : نبوت کی نشانیاں
باب : نبوت کی نشانیاں
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں جناب جبریل علیہ السلام آئے جب کہ آپ بچوں کے ساتھ مشغول تھے ۱؎تو حضور کو پکڑا انہیں لٹایا ان کا دل چاک کیا تو اس سے پارہ گوشت نکالا پھر کہا کہ یہ آپ میں شیطان کا حصہ ہے۲؎پھر اسے سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا۳؎پھر اسے سی دیا اور اس کی جگہ واپس رکھ دیا ۴؎چند بچے حضور کی ماں یعنی حضور کی دائی کے پاس دوڑتے آئے ۵؎بولے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا گیا لوگ آپ کی طرف دوڑے آئے ۶؎آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا ۷؎حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دھاگے کا اثر آپ کے سینہ پاک میں دیکھا کرتا تھا ۸؎(مسلم)
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهٗ فَصَرَعَهٗ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهٖ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً. فَقَالَ: هٰذَاحَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهٗ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهٗ وَأَعَادَهٗ فِي مَكَانِهٖ وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلٰى أُمِّهٖ يَعْنِي ظِئْرَهُ. فَقَالُوا: إِنْ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقَعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ: فَكُنْتُ أَرٰى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهٖ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5852 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں مکہ کے وہ پتھر پہچانتا ہوں جو نبوت کے ظہور سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ۱؎میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں ۲؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهٗ الآنَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5853 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ مکہ والوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا کہ انہیں حضور کوئی معجزہ دکھائیں ۱؎تو حضور نے انہیں چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھایا ۲؎حتی کہ انہوں نے حراء کو ان دونوں کے بیچ میں دیکھا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ الْقَمَرَ شِقَّتَيْنِ حَتّٰى رَأَوْا حِرَاءً بَيْنَهُمَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5854 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہوکر پھٹا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا ٹکڑا اس کے نیچے تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا گواہ رہو ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً دُونَهٗ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5855 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ علیہ سے فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے اپنا چہرہ گرد آلود کرتے ہیں ۱؎کہا گیا ہاں تو بولا کہ لات و عزیٰ کی قسم اگر میں نے انہیں یہ کرتے دیکھا تو انکی گردن روند دوں گا پھر وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا جب کہ حضور نماز پڑھ رہے تھے۲؎ارادہ کیا کہ حضور کی گردن کو روندے تو کفار کو اسی بات نے گھبراہٹ میں کر ڈالا کہ وہ اپنی ایڑیوں پر پیچھے لوٹ رہا تھا۳؎اور اپنے ہاتھوں سے بچاؤ کر رہا تھا،اس سے کہا گیا کہ تجھے کیا ہوا وہ بولا کہ میرے اور حضور کے درمیان آگ کی خندق ہے ۴؎اور ہیبت اور پَر ہیں ۵؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اگر وہ مجھ سے قریب ہوتا تو فرشتے اس کے عضو عضو کے ٹکڑے کردیتے ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهٗ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ فَقِيلَ: نَعَمْ. فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزّٰى لَئِنْ رَأَيْتُهٗ يَفْعَلُ ذٰلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلٰى رَقَبَتِهٖ فَأَتٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي - زَعَمَ لِيَطَأَ عَلٰى رَقَبَتِهٖ فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلٰى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ فَقِيلَ لَهٗ مَالَكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهٗ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْواً عُضْواً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5856 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے فرماتے ہیں ۱؎کہ جبکہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اس نے آپ سے فاقہ کی شکایت کی پھر آپ کے پاس دوسرا آیا اس نے حضور سے ڈکیتی کی شکایت کی۲؎تو فرمایا اے عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے۳؎اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم ایک بڑھیا کو دیکھو گے کہ حیرہ سے چلے گی حتی کہ کعبہ کا طواف کرے گی خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرے گی۴؎اور اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے ۵؎اور اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم آدمی دیکھو گے کہ لپ بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اسے تلاش کرے گا جو اسے قبول کرے تو ایسا ایک شخص بھی نہ ملے گا۶؎جو اس سے قبول کرے اور رب سے ملاقات کے دن تم میں سے ہر ایک اپنے رب کو یوں ملے گا کہ اس کے اور رب کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا ۷؎جو اسے ترجمہ کرے،رب فرمائے گا کہ کیا میں نے تیری طرف رسول نہ بھیجا ۸؎جو تجھے تبلیغ کرے بندہ کہے گا ہاں،پھر فرمائے گا کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تجھ پر فضل نہیں کیا بندہ کہے گا۹؎ہاں تو وہ اپنے داہنے دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر دوزخ اور اپنے بائیں دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر دوزخ ۱۰؎آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کی قاش کے ذریعہ جو یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات کے ذریعہ ۱۱؎عدی فرماتے ہیں کہ میں نے بڑھیا کو تو دیکھ لیا کہ وہ حیرہ سے چلتی ہے حتی کہ کعبہ کا طواف کرتی ہے کہ الله کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی ۱۲؎اور میں خود ان لوگوں میں تھا جنہوں نے کسریٰ ابن ہرمز کے خزانے فتح کیے اور اگر تم لوگوں کی عمر دراز ہوئی تو تم وہ بھی دیکھ لو گے جو ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آدمی لپ بھر سونا لے کر نکلے گا ۱۳؎(بخاری)
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ ثُمَّ أَتَاهُ الْآخَرُ فَشَكَا إِلَيْهِ قَطْعَ السَّبِيلِ. فَقَالَ: " يَا عَدِيُّ هَل رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟ فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ فَلَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتّٰى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰهَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرٰى وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يَخْرُجُ مِلْءَ كَفِّهٖ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهٗ فَلَا يجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهٗ مِنْهُ وَلَيَلْقَيَنَّ اللّٰهَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَلَيْسَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهٗ تَرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهٗ فَلَيَقُولَنَّ: أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ رَسُولًا فَيُبَلِّغُكَ؟ فَيَقُولُ: بَلٰى. فَيَقُولُ: أَلَمْ أُعْطِكَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَيْكَ؟ فَيَقُولُ: بَلٰى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهٖ فَلَا يَرَى الا جَهَنَّمَ وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهٖ فَلَا يَرَى الا جَهَنَّمَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " قَالَ عَدِيٌّ: فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتّٰى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰهَ وَكُنْتُ فِيمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرٰى بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ مِلْءَ كَفِّهٖ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5857 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضرت خباب ابن ارت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی الله علیہ و سلم کی بارگاہ میں شکایت کی جب کہ حضور کعبہ کے سایہ میں چادر کا تکیہ لگائے لیٹے تھے ہم نے مشرکین سے بہت سختی جھیلی تھی تو ہم نے عرض کیا کہ حضور الله سے دعا کیوں نہیں فرماتے ۲؎تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے چہرہ انور سرخ تھا ۳؎اور فرمایا کہ تم سے اگلوں میں ایک شخص کے لیے گڑھا کھودا جاتا تھا اسے اس گڑھے میں دبایا جاتا تھا پھر آرا لایا جاتا تھا وہ اس کے سر پر رکھا جاتا تھا وہ قاشیں کرکے چیر دیا جاتا تھا یہ اسے اس کے دین سے نہ روکتا تھا۴؎اور اس کے گوشت کے نیچے ہڈیوں پٹھوں تک پہنچا کر لوہے کی کنگھیوں سے اسے کنگھی کی جاتی تھی اور یہ اسے اس کے دین سے نہ روکتا تھا۵؎خدا کی قسم یہ دین پورا ہوکر رہے گا ۶؎حتی کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا۷؎کسی سے خوف نہ کرے گا سواء الله کے یا سواء بھیڑیئے کے اپنی بکریوں پر مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو۸؎(بخاری)
وَعَنْ خبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَامِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً فَقُلْنَا: أَلَا تَدْعُو اللّٰهَ فَقَعَدَ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهٗ وَقَالَ«كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهٗ فِي الْأَرْضِ فَيُجْعَلُ فِيهِ فَيُجَاءُ بِمِنْشَارٍ فَيُوضَعُ فَوْقَ رَأْسِهٖ فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ فَمَا يَصُدُّهٗ ذٰلِكَ عَنْ دِينِهٖ وَاللّٰهِ لَيَتِمَّنَّ هٰذَاالْأَمْرُ حَتّٰى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلٰى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ أَوِ الذِّئْبَ عَلٰى غَنَمِهٖ وَلٰكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ»رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5858 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ام حرام بنت ملحان کے پاس جاتے تھے ۱؎وہ حضرت عبادہ ابن صامت کی بیوی تھیں ایک دن حضور انکے پاس تشریف لے گئے انہوں نے حضور کو کچھ کھلایا پھر بیٹھ گئیں آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے لگیں ۲؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم سو گئے پھر ہنستے ہوئے جاگے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا کیا چیز آپ کو ہنسا رہی ہے یارسول الله تو فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے الله کی راہ میں غازی جو اس سمندر کی فراخی میں سوار ہوں گے۳؎جیسےتختوں پر بادشاہ یا بادشاہوں کی طرح۴؎تختوں پر میں نے عرض کیا یارسول الله حضور الله سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان سے کرے ۵؎حضور نے ان کے لیے دعا فرمائی ۶؎پھر حضور نے سر رکھا اور سو گئے پھر جاگے ہنستے ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول الله کیا چیز حضور کو ہنساتی ہے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے الله کی راہ میں غازیانہ شان سے جیساکہ پہلی بار میں فرمایا تھا۷؎تو میں نے عرض کیا یارسول الله حضور الله سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کرے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو۸؎چنانچہ حضرت معاویہ کے زمانہ میں ام حرام سمندر میں سوار ہوئیں ۹؎پھر جب سمندر سے نکلیں تو اپنی سواری سے گرگئیں اور فوت ہوگئیں ۱۰؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلٰى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ثُمَّ جَلَسَتْ تُفْلِي رَأسَهٗ فَنَامَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللّٰهِ يَرْكَبُونَ بِثَجِّ هٰذَاالْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهٗ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللّٰهِ».كَمَا قَالَ فِي الأولى. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ.قَالَ:«أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ». فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5859 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ضماد مکہ مکرمہ آئے اور یہ تھے ازد شنوءہ سے ۱؎اس قسم کی ہوا سے جھاڑ پھونک کرتے تھے۲؎انہوں نے مکہ کے بے وقوف باشندوں کو کہتے سنا کہ حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیوانہ ہیں تو بولے کہ ان صاحب کو میں دیکھ لیتا ہوں شاید کہ الله تعالٰی انہیں میرے ہاتھ پر شفا دے دیتا۳؎فرماتے ہیں کہ وہ حضور سے ملے بولے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس خلل والی ہوا سے جھاڑ پھونک کرتا ہوں کیا یہ آپ کو ہے ۴؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ساری تعریفیں الله کی ہیں،ہم اس کی حمد کرتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں،جسے الله ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں،میں گواہی دیتا ہوں کہ اکیلے الله کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد الله کے بندے اس کے رسول ہیں اس کے بعد ۵؎تب ضماد نے کہا اپنے یہ کلمات دوبارہ فرمایئے،رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کے سامنے یہ کلمات تین بار لوٹائے ۶؎وہ بولا کہ میں نے کاہنوں کی باتیں شاعروں کے قول سنے ہیں مگر میں نے آپ کی ان باتوں کی مثل کبھی نہیں سنیں ۷؎یہ تو سمندر کی تہہ کو پہنچی ہوئی ہیں ۸؎اپنا ہاتھ لائیے میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں فرمایا اس نے حضور کی بیعت کرلی ۹؎(مسلم)اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ہے سمندر کی گہرائی میں پہنچ گئے ہیں ۱۰؎اور ابوہریرہ اور جابر ابن سمرہ کی دونوں حدیثیں کہ کسریٰ ہلاک ہوجاوے گا اور دوسری کہ ایک جماعت فتح کرے گی لڑائیوں کے باب میں بیان کردی گئیں۔ اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَكَانَ يَرْقي مِنْ هٰذَاالرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَاءَ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ. فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هٰذَاالرَّجُلَ لَعَلَّ اللّٰهَ يَشْفِيهِ عَلٰى يَدَيَّ. قَالَ: فَلَقِيَهٗ.فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هٰذَاالرِّيحِ فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِينُهٗ مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهٗ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ أَمَّا بَعْدُ» فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ. وَلَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الإِسْلَامِ قَالَ: فَبَايَعَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي بَعْضِ نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» : بَلَغْنَا نَاعُوسَ الْبَحْر وَذُكِرَ حَدِيثَا أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ « يَهْلِكُ كِسْرٰى» وَالآخَرَ: "لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ" فِي "بَابِ الْمَلَاحِمِ".وَهٰذَاالْبَابُ خَالٍ عَنِ: الْفَصْل الثَّانِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5860 ، باب : نبوت کی نشانیاں
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابوسفیان ابن حرب نے منہ در منہ خبر دی ۱؎کہا کہ میں اس صلح کے زمانہ میں جو میرے اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے درمیان تھی۲؎کہتے ہیں کہ میں شام میں تھا کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کا فرمان نامہ ہرقل کی پاس لایا گیا۳؎ابوسفیان نے کہا کہ یہ خط دحیہ کلبی لائے تھے اور انہوں نے بصرےٰ کے وزیر کو دیا تھا۴؎پھر بصرےٰ کے وزیر نے ہرقل کو پہنچایا ہرقل بولا کہ کیا یہاں ان صاحب کی قوم کا کوئی آدمی ہے جو دعویٰ نبوت کررہے ہیں۵؎لوگوں نے کہا ہاں چنانچہ قریش کی ایک جماعت میں میں بلایا گیا۶؎تو ہم ہرقل کے پاس گئے ہم کو اس کے سامنے بٹھلایا گیا۷؎وہ بولا کہ جن صاحب نے دعویٰ نبوت کیا ہے ان سے زیادہ قریبی تم میں کون ہے ۸؎ابوسفیان نے کہا کہ میں بولا میں ہوں ۹؎تو مجھے اس کے سامنے بٹھادیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے۱۰؎پھر اپنے مترجم کو بلایا اس نے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ان سے ان صاحب کے متعلق کچھ پوچھوں گا جو اپنے کو نبی کہتے ہیں تو اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہیں تو تم انہیں جھٹلادینا ۱۱؎ابو سفیان کہتے ہیں الله کی قسم اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ مجھ پر جھوٹ مشہور کیا جاوے گا تو میں اس سے جھوٹ بول دیتا۱۲؎پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھوں کہ ان نبی کا خاندان تم میں کیسا ہے میں نے کہا وہ عالی خاندان ہیں۱۳؎بولا کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ تھا میں نے کہا نہی۱۴؎بولا کیا ان کے دعویٰ نبوت سے پہلے تم انہیں جھوٹ سے متہم کرتے تھے میں نے کہا نہیں۱۵؎وہ بولا ان کی پیروی کون کرتا ہے سردار لوگ یا کمزور لوگ میں نے کہا بلکہ کمزور لوگ۱۶؎بولا یہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں کہتے ہیں کہ میں نےکہا بلکہ بڑھ رہے ہیں بولا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اپنے دین سے ناراض ہو کر پھر جاتا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا نہیں۱۷؎بولا کیا تم نے ان سے کبھی جنگ کی ہے میں نے کہا ہاں بولا تمہاری ان سے جنگ کیسی ہوتی ہے کہتے ہیں میں نے کہا کہ ہمارے ان کے درمیان جنگ ایک ڈول ہوتی ہے۱۸؎کبھی ہم پر وہ غالب ہوتے کبھی ان پر ہم غالب،بولا کیا بدعہدی کرتے ہیں میں نے کہا نہیں ۱۹؎آج کل ہم ان سے صلح میں ہیں ہم نہیں جانتے کہ اس میں وہ کیا کریں گے۲۰؎کہتے ہیں کہ الله کی قسم کہ اس بات کے سوا اور کوئی چیز شامل کرنے کا مجھے موقعہ نہیں ملا ۲۱؎وہ بولا کیا ان سے پہلے کسی نے یہ بات کہی تھی۲۲؎میں نے کہا نہیں۲۳؎پھر بادشاہ نے اپنے مترجم سے کہا کہ ان سے کہو کہ میں نے تم سے ان کے نسب کے متعلق پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں عالی نسب ہیں اسی طرح انبیاءکرام اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں بھیجے جاتے ہیں۲۴؎اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے تو تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر انکے باپ دادوں میں بادشاہ ہوا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ وہ صاحب ہیں جو اپنے باپ دادوں کے ملک کے طالب ہیں۲۵؎اور میں نے تم سے ان کے متبعین کے متعلق پوچھا کہ معمولی لوگ ہیں یا بڑے لوگ تو تم نے کہا بلکہ کمزور لوگ ہیں یہ ہی کمزور نبیوں کی متبعین رہے ہیں ۲۶؎اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے اس دعویٰ سے پہلے تم انہیں جھوٹ کا الزام دیتے تھے تم نے کہا کہ نہیں میں نے پہچان لیا کہ یہ ناممکن ہےکہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولیں پھر الله پر جھوٹ باندھنے لگیں۲۷؎اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کوئی اس دین میں داخل ہونے کے بعد اپنے دین اسلام سے ناراض ہوکر پھر بھی جاتا ہے تم نے کہا کہ نہیں ایمان کا ایسا ہی حال جب اس کی لذت و فرحت دلوں میں گھل مل جاتی ہے۲۸؎اور میں نے تم سے پوچھا کہ مسلمان بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ایمان کا یہی حال ہے حتی کہ پورا ہوجاتا ہے ۲۹؎اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ کی ہے تو تم نے کہا کہ تم نے ان سے جنگ کی ہے تو جنگ تمہارے اور ان کے درمیان ایک ڈول ہوتی ہے کہ وہ تم سے اور تم ان سے لیتے ہو اسی طرح انبیاءکرام آزمائے جاتے ہیں انجام انہیں کے حق میں ہوتا ہے۳۰؎اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا عہدشکنی کرتے ہیں تم نے کہا کہ نہیں کرتے اسی طرح انبیاء عہد شکنی نہیں کرتے ۳۱؎اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کسی نے ان سے پہلے یہ دعویٰ کیا ہے تم نے کہا کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں کہتا کہ ایسے صاحب ہیں جو اپنے سے پہلے کہی ہوئی بات کی پیروی کررہے ہیں ۳۲؎پھر بولا وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں۳۳؎ہم نے کہا کہ ہم کو نماز،زکوۃ،صلہ رحمی،پاکدامنی کا حکم دیتے ہیں ۳۴؎وہ بولا جو تم کہتے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ بھیجے نبی ہیں۳۵؎میں تو جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میرا خیال یہ نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہیں ۳۶؎اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو ان سے ملنا پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے قدم دھوتا۳۷؎اور ان کا ملک میرے قدموں کے نیچے تک پہنچ جاوے گا۳۸؎پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا خط منگایا پھر اسے پڑھا۔(مسلم،بخاری) بقیہ پوری حدیثکتاب الی الکفارکے باب میں گزرگئی ۳۹؎
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ مِنْ فِيهِ إِلٰى فِيَّ قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّام إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى هِرَقْلَ. قَالَ: وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهٖ فَدَفَعَهٗ الٰى عَظِيمِ بُصْرٰى فَدَفَعَهٗ عَظِيمُ بُصْرَى الٰى هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ:هَلْ هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هٰذَاالرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهٗ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلٰى هِرَقْلَ فَأُجْلِسْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هٰذَاالرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهٗ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهٖ فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هٰذَاعَنْ هٰذَاالرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهٗ نَبِيٌّ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ. قَالَ أَبُو سُفْيَانُ: وَايْمُ اللّٰهِ لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُهٗ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهٖ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهٗ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهٖ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهٗ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: وَمَنْ يَتَّبِعُهٗ؟ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: لَا بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهٖ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهٗ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهٗ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا؟ قَالَ: وَاللّٰهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهٖ. قَالَ: فَهَلْ قَالَ هٰذَاالْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهٗ؟ قُلْتُ: لَا. ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهٖ: قُلْ لَهٗ: إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهٖ فِيكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهٗ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ وَكَذٰلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهٖ مَلِكٌ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهٖ مَلِكٌ. قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهٖ. وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهٖ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ. وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهٗ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَعَرَفْتُ أَنَّهٗ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيَكْذِبُ عَلَى اللّٰهِ. وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهٖ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهٗ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذٰلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَتُهُ القُلُوبَ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذٰلِكَ الْإِيمَانُ حَتّٰى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهٗ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ وَكَذٰلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلٰى ثُمَّ تَكُونُ لَهَا الْعَاقِبَةُ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهٗ لَا يَغْدِرُ وَكَذٰلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هٰذَاالْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهٗ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هٰذَاالْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهٗ قُلْتُ: رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهٗ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْنَا: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ. قَالَ: إِنْ يَكُ مَا تَقُولُ حَقًّا فَإِنَّهٗ نَبِيٌّ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمَ أَنَّهٗ خَارِجٌ وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهٗ مِنْكُمْ وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهٗ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهٗ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهٗ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ. ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهٗ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَقَدْ سَبَقَ تَمَامُ الْحَدِيثِ فِي « بَابِ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5861 ، باب : نبوت کی نشانیاں