باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت شعبہ سے وہ قتادہ سے وہ جناب انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح بھیجے گئے ہیں ۱∞؎شعبہ نے فرمایا کہ میں نے قتادہ کو انکے وعظوں میں فرماتے سنا۲؎کہ جیسے ان دونوں میں سے ایک کی زیادتی دوسری۳؎پر مجھے یہ خبر نہیں کہ اسے حضرت انس سے روایت کیا یا قتادہ نے خود کہا۔(مسلم،بخاری)

عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ". قَالَ شُعْبَةُ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ؟ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5509 ، باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے فرماتے سنا کہ تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہو ۱∞؎اس کا علم اکے پاس ہے۲؎اور میں اکی قسم کھاتا ہوں کہ زمین پر ایسی کوئی نفاس سے پیدا ہونے والی ذات نہیں۳؎جس پر سو سال گزریں اور وہ اسی دن زندہ ہو۴؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: "تَسْأَلُونِّي عَنِ السَّاعَةِ؟ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِئَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5510 ، باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی

روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ سو برس ایسے نہ گزریں گے کہ زمین پر کوئی جنی ہوئی ذات آج کی جو موجود رہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَا يَأْتِي مِئَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5511 ، باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ دیہاتی لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آتے تھے تو آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے تھے ۱∞؎تو آپ ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف نظر فرماتے تھے کہ اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہ آئے گا کہ حتی کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہوجاوے گی ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الأَعْرَابِ يَأْتُونَ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَيَسْأَلُونَهُ عَنِ السَّاعَةِ، فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ فَيَقُولُ: "إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5512 ، باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی

روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے ۱∞؎وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں قیامت کے اندر بھیجا گیا ہوں ۲؎تو میں قیامت سے اس طرح پہلے ہوں جیسے یہ انگلی اس سے اور اپنی دو انگلیوں کلمہ کی اور بیچ کی طرف اشارہ کیا۳؎(ترمذی)

عَنِ الْمُسْتَوْرَدِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "بُعِثْتُ فِي نَفْسِ السَّاعَةِ، فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ" وَأَشَارَ بِأُصْبَعَيْهِ السبَّابَةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5513 ، باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ میں امیدکرتا ہوں کہ میری امت اپنے رب کے نزدیک اس سے عاجز نہیں ہوگی انہیں آدھے دن کی مہلت دے ۱∞؎سعد سے کہا گیا کہ آدھا دن کتنا فرمایا پانچ سو سال ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنِّي لأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ". قِيلَ لِسَعْدٍ: وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5514 ، باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس دنیا کی مثال اس کپڑے کی سی ہے جو اول سے آخر تک کاٹ دیا گیا پھر وہ آخر میں ایک دھاگے سے ہلکا رہ گیا قریب ہے کہ یہ دھاگہ ٹوٹ جاوے ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَثَلُ هَذِهِ الدُّنْيَا مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِي آخِرِهِ، فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5515 ، باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی