- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار مجاشعی سے ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا کہ آگاہ رہو کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ سب سکھاؤں جو مجھے میرے رب نے سکھایا اس دن۲؎جو مال میں کسی بندہ کو دوں وہ حلال ہے۳؎اور میں نے اپنے بندوں کو پیدا کیا کہ وہ سارے برائیوں سے دور تھے۴؎اور ان کے پاس شیاطین آئے تو انہیں دین سے پھیر دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں ۵؎اور انہیں مشورہ دیا کہ میرا شریک انہیں ٹھہرائیں جس پر میں نے کوئی دلیل نہ اتاری اور الله نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو ان سب عربیوں عجمیوں پر ناراض ہوا سواء بچے کھچے اہل کتاب کے ۶؎اور فرمایا کہ میں نے تم کو بھیجا ہے تاکہ تمہارا امتحان لوں اور تمہارے ذریعہ سے امتحان لوں ۷؎ا ور میں نے تم پر ہر وہ کتاب اتاری جسے پانی نہ دھو سکے۸؎تم سوتے جاگتے پڑھو گے ۹؎اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ قریشی کو جلا ڈالوں ۱۰؎تو میں نے عرض کیا یا رب تب تو وہ میرا سر کچل دیں گے تو اسے روٹی کو چھوڑیں گے ۱۱؎فرمایا تم انہیں نکالو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا۱۲؎تم ان پر جہاد کرو ہم تمہیں سامان دیں گے۱۳؎تم خرچ کرو ہم تم پر خرچ کریں گے۱۴؎تم لشکربھیجو ہم پانچ گناہ لشکربھیجیں گے۱۵؎اور اپنے فرمانبرداروں کے ساتھ اپنے نافرمانوں سے جنگ کرو ۱۶؎(مسلم)
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: "أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أعُلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا: كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حلالٌ،وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ، فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرْتَهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا،وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ"، وَقَالَ: "إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ،وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُريْشًا فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا أَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ، وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5371 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی کنبہ والوں کو ڈراؤ تو نبی صلی الله علیہ و سلم صفا پر چڑھے پھر پکارنے لگے ۱؎کہ اے بنی فہر،اے بنی عدی قریش کے خاندانوں۲؎حتی کہ وہ جمع ہوگئے تو فرمایا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبردوں کہ سواروں کا لشکر اس جنگل میں ہے تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے کیا تم مجھے سچا سمجھو گے۳؎وہ بولے ہاں ہم نے آپ پر ہمیشہ سچ ہی آزمایا ہے۴؎فرمایا تو میں تم کو سخت عذاب کے آگے ڈراتا ہوں، اس پر ابولہب بولا تم کو ہمیشہ کے لیے ہلاکت ہو کیا آپ نے ہم کو اسی لیے جمع کیا تھا، تب یہ آیت اتری کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوں اور وہ خود ہلاک ہو۵؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نے آواز دی کہ اے عبدمناف کی اولاد اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتا ہوا چلا پھر ڈرا کہ دشمن اس سے پہلے ہی پہنچ جاوے تو چیخنے لگا یاصباہ ۶؎
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} صَعِدَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي: "يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ" لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا، فَقَالَ: "أَرَأَيْتكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ " قَالُوا: نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ: "فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ". فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟فَنَزَلَتْ: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ}. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ نَادَى: "يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يسبقوه فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5372 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی کنبہ والوں کو ڈراؤ ۱؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے قریش کو نداء دی چنانچہ وہ جمع ہوگئے تو حضور نے عام و خاص سے خطاب فرمایا ۲؎ارشاد فرمایا اے بنی کعب بن لوی اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے مرہ ابن کعب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدشمس کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدمناف کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے ہاشم کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدالمطلب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو۳؎اے فاطمہ اپنی جان آگ سے بچالو۴؎کہ میں اﷲکے مقابل تمہارے لیےکسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۵؎سواء اس کے کہ تم سے رشتہ داری ہے جس کی تری کو میں تر رکھوں گا۔اورمسلم،بخاری کی روایت میں ہے کہ کہا اے قریش کے گروہ اپنی جانیں بچالو میں اﷲکے مقابل تم سے کچھ دفع نہیں کرسکتا،اے صفیہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی پھوپھی۶؎میں تم سے الله کے مقابل کچھ بھی دفع نہیں کرسکتا،اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تم جو چاہو مجھ سے میرا مال مانگ لو ۷؎میں تم سے اﷲکے مقابل کچھ دفع نہیں کرسکتا ۸؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دَعَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا، فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: "يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ من النَّار، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُم من النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُم من النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ؛ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفَي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: "يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5373 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میری یہ امت رحمت والی ہے ۱؎اس پر آخرت میں عذاب نہیں ۲؎اس کا عذاب دنیا میں ہے فتنے زلزلے اور قتل ۳؎(ابوداؤد)
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-:"أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الآخِرَةِ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5374 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
روایت ہے حضرت ابو عبیدہ اور معاذ ابن جبل سے ۱؎وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ یہ کام شروع ہوا نبوت اور رحمت سے۲؎پھر ہوجاوے گا خلافت اور رحمت۳؎پھر ہوجاوے گا کٹ کھیتی سلطنت۴؎پھر ہو جاوے گا ظلم سرکشی اور زمین میں فساد۵؎کہ لوگ ریشم اور زنا اور شرابوں کو حلال سمجھیں گے ۶؎اس کے باوجود روزی دیئے جائیں گے،فتح دیئے جائیں گے حتی کہ الله سے ملیں گے ۷؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ هَذَا الأَمْرَ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً،ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ مُلْكًا عَضُوضًا، ثُمَّ كَائِنٌ جَبْرِيَّةً وَعُتُوًّا وَفَسَادًا فِي الأَرْضِ، يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْفُرُوجَ وَالْخُمُورَ، يُرْزَقُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُنْصَرُونَ حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5375 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
روایت ہے حضرت ابو عبیدہ اور معاذ ابن جبل سے ۱؎وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ یہ کام شروع ہوا نبوت اور رحمت سے۲؎پھر ہوجاوے گا خلافت اور رحمت۳؎پھر ہوجاوے گا کٹ کھیتی سلطنت۴؎پھر ہو جاوے گا ظلم سرکشی اور زمین میں فساد۵؎کہ لوگ ریشم اور زنا اور شرابوں کو حلال سمجھیں گے ۶؎اس کے باوجود روزی دیئے جائیں گے،فتح دیئے جائیں گے حتی کہ الله سے ملیں گے ۷؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ هَذَا الأَمْرَ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً،ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ مُلْكًا عَضُوضًا، ثُمَّ كَائِنٌ جَبْرِيَّةً وَعُتُوًّا وَفَسَادًا فِي الأَرْضِ، يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْفُرُوجَ وَالْخُمُورَ، يُرْزَقُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُنْصَرُونَ حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5376 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کوفرماتے سنا کہ شراب پہلی وہ چیز ہے جو انڈیلی جاوے گی ۱؎زید ابن یحیی راوی فرماتے ہیں کہ مراد اسلام ہے۲؎جیسے برتن سے اونڈیلی جاتی ہے یعنی شراب۳؎عرض کیا گیا یارسول الله (صلی اللہ علیہ و سلم)یہ کیسے ہوگا حالانکہ الله تعالٰی نے اس کے بارے میں واضح بیان فرمادیا ہے۴؎فرمایا کہ اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے پھر اسے حلال سمجھ لیں گے ۵؎(دارمی)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ -قَالَ زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الرَّاوِي: يَعْنِي الإِسْلَامَ- كَمَا يُكْفَأُ الإِنَاءُ، يَعْنِي الْخَمْرَ"، قِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا ما بين؟ قَالَ: "يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5377 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎وہ حضرت حذیفہ سے راوی فرماتے ہیں،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے تم میں نبوت رہے گی جب تک اس کا رہنا الله چاہے پھر اسے الله اٹھالے گا ۲؎پھر ہوگی خلافت نبوت کے راستہ پر جب تک الله اس کا ہونا چاہے۳؎پھر اسے بھی الله اٹھالے گا ۴؎پھر کنکھنا ملک ہوگا ۵؎پھر وہ رہے گا جب تک الله اس کا رہنا چاہے پھر اسے الله اٹھا لے گا پھر جبریہ سلطنت ہوگی۶؎وہ بھی رہے گی جب تک الله اس کا رہنا چاہے،پھر اسے الله اٹھالے گا،پھر خلافت نبوۃ کی شہ راہ پر ہوگی ۷؎پھر حضور خاموش ہوگئے،حبیب کہتے ہیں ۸؎پھر جب عمر ابن عبدالعزیز قائم ہوئے تو میں نے انہیں یہ حدیث لکھ بھیجی میں ان کو یہ حدیث یاد دلاتا تھا میں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ کنکھنے اور جبریہ ملک کے بعد مسلمانوں کے امیر ہوئے ۹؎تو آپ اس سے بہت خوش ہوئے اور عمر ابن عبدالعزیز کو یہ بہت پسند آئی۱۰؎(احمد،بیہقی دلائل النبوۃ)
عَن النُّعْمَانِ ابْنِ بَشِيرٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَة عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ"، ثُمَّ سَكَتَ،قَالَ حَبِيبٌ: فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ وَقُلْتُ: أَرْجُو أَنْ تَكُونَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ، فَسُرَّ بِهِ وَأَعْجَبَهُ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّة".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5378 ، باب : متفرقات و ملحقات کا بیان