باب:کھڑے ہونے کا باب

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب بنی قریظہ حضرت سعد کے حکم پر اترنے لگے ۱∞؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور وہ حضور سے قریب ہی تھے چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار آئے ۲؎تو جب مسجد سے قریب ہوئے ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اٹھ کر جاؤ اپنے سردار کی طرف ۴؎(مسلم،بخاری)یہ دراز حدیث باب حکم اسراء میں گزرچکی۔

عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلٰى حُكْمِ سَعْدٍ بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلٰى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: قُومُوْا إِلٰى سَيِّدِكُمْ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) . وَمَضَى الحَدِيثُ بِطُولِهٖ فِي بَابِ حِكَمِ الْإِسْرَاءِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4695 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ کوئی شخص کسی شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے ۱∞؎لیکن یہ کہہ دے کہ جگہ وسیع کرو اور جگہ دو ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهٖ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلٰكِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4696 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنی جگہ سے اٹھ جاوے پھر وہاں آئے تو اس جگہ کا وہ ہی حقدار ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهٖ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4697 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ کوئی شخص صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہ تھا ۱∞؎یہ حضرات جب حضور کو دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ حضور کی ناپسندیدگی کو جانتے تھے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُوْمُوْا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهٖ لِذٰلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4698 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے لیے سروقد کھڑے رہیں ۱∞؎تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۲؎(ترمذی و ابوداؤد)

وَعَنْ مُعَاوِيَة قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4699 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاٹھی پر ٹیک لگائے تشریف لائے ۱∞؎ہم کھڑے ہوگئے تو فرمایا ایسے نہ کھڑے ہو جیسے عجمی لوگ کھڑے ہوتے ہیں ان کے بعض بعض کی تعظیم کرتے ہیں ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلٰى عَصًا فَقُمْنَا فَقَالَ: لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4700 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت سعید ابن ابی الحسن سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک گواہی میں ابوبکرہ ۲؎آئے تو ایک شخص ان کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا آپ نے وہاں بیٹھنے سے انکار فرمایا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۳؎اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی اپنے ہاتھ اس کے کپڑے سے پونچھے جسے یہ پہنے ہوئے نہیں ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: جَاءَنَا أَبُوْ بَكْرَةَ فِيْ شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهٗ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهٖ فَأَبٰى أَنْ يَجْلِسَ فِيْهِ وَقَالَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ذَا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهٗ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4701 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے اور ہم آپ کے گرد بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے واپس ہونا چاہتے تو آپ اپناجوتا شریف یا بعض چیز جو آپ پر ہوتی اتار جاتے ۱∞؎تو یہ آپ کے ساتھی پہچان جاتے تو وہ حضرات بیٹھے رہتے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ الدَرْدَاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ وَ جَلَسْنَا حَوْلَهٗ فَقَامَ فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَهٗ أَوْبَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذٰلِكَ أَصْحَابُهٗ فَيَثْبُتُونَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4702 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان علیحدگی کرے بغیر ان کی اجازت سے ۱∞؎(ترمذی، ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4703 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوشخصوں کے درمیان ان کی اجات کے بغیر نہ بیٹھو ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَجْلِسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بإِذنهما . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4704 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مسجد میں بیٹھتے ہم سے باتیں کرتے تھے پھر جب کھڑے ہوتے تو ہم سیدھے کھڑے ہوجاتے ۱∞؎حتی کہ ہم دیکھ لیتے کہ حضور اپنی بعض بیویوں کے گھروں میں تشریف لے گئے ۲؎

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتّٰى نَرَاهٗ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوْتِ أَزْوَاجِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4705 ، باب:کھڑے ہونے کا باب

روایت ہے واثلہ ابن خطاب سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا حالانکہ آپ مسجد میں بیٹھے تھے تو اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جنبش کی۲؎تو اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ جگہ میں کافی گنجائش ہے۳؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کا حق ہے کہ جب اسے اس کا بھائی دیکھے تو اس کے لیے کچھ جنبش کرے ۴؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ فَتَزَحْزَحَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ فِي الْمَكَانِ سَعَةً. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلْمُسْلِمِ لَحَقًّا إِذَا رَآهُ أَخُوهُ أَنْ يَتَزَحْزَحَ لَهُ . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4706 ، باب:کھڑے ہونے کا باب