- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابن عمر سےفرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم پر احد کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں چودہ سال کا تھا تو مجھے قبول نہ فرمایا ۱؎پھر خندق کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں پندرہ برس کا تھا تو مجھے قبول فرمالیا ۲؎حضرت عمر ابن عبد العزیز نے فرمایا کہ یہ ہی غازیوں اور بچوں کے درمیان فرق ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَدَّنِي ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: هَذَا فَرْقُ مَا بَين الْمُقَاتِلَةِ وَالذُّرِّيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3376 ، باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے دن ۱؎تین چیزوں پر صلح فرمائی اس پر مشرکین میں سے جو آپ کے پاس آئے حضور اسے لوٹا دیں کفار کی طرف ۲؎اور جو مسلمان ان کے پاس چلا جائے وہ اسے واپس نہ کریں ۳؎اور اس پر کہ سال آئندہ مکہ میں داخل ہوں اور وہاں تین دن قیام فرمائیں ۴؎پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو وہاں سے روانہ ہوئے ۵؎تو حضرت حمزہ کی بیٹی آپ کے پیچھے ہولی چچا جان چچان جان کہتی ہوئی ۶؎تو اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اٹھالیا اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۷؎اس بچی میں جناب علی،زید،جعفرجھگڑے ۸؎حضرت علی نے فرمایا کہ اسے میں نے لیا ہے وہ میری چچا زاد ہے ۹؎اور حضرت جعفر بولے میری چچا زاد ہے اس کی خالہ میرے پاس ہے ۱۰؎حضرت زید بولے میری بھتیجی ہے ۱۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا فیصلہ اس کی خالہ کے لیے کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی جگہ ہے ۱۲؎اور حضرت علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۱۳؎اور جناب جعفر سے فرمایا تم میری ہم صورت ہم سیرت ہو۱۴؎اور حضرت زید سے فرمایا تم ہمارے بھائی ہماے پیارے ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَوُدُّوهُ، وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ، وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا دخَلَهَا وَمَضَى الأَجَلُ خَرَجَ، فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمِّ يَا عَمِّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ: بِنْتُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ: "الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ" وَقَالَ لِعَلِيٍّ: "أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ" وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: "أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي" وَقَالَ لِزَيْدٍ: "أَنْت أَخُونَا وَمَوْلَانَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3377 ، باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا عبداﷲابن عمرو سے راوی کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول اﷲیہ میرا بچہ ہے کہ میرا پیٹ اس کا برتن تھا اور میرے پستان اس کے مشکیزے ۱؎اور میری گود اس کی آرام گاہ ۲؎اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کی مستحق تو ہے جب تک اپنا نکاح نہ کر لو۳؎(احمد)۴؎(ابوداؤد)
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهٖ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً،وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي". رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3378 ، باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لڑکے کو ۱؎اس کے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3379 ، باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی بولی کہ میرا خاوند ۱؎میرے بچے کو لے جانا چاہتا ہے یہ بچہ مجھے پانی پلاتا ہے،مجھے نفع پہنچاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے تو بچے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا وہ اسے لے گئی ۲؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)
وَعنهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ سَقَانِي وَنَفَعَنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ،فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ" فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3380 ، باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
روایت ہے حضرت ہلال ابن اسامہ رضی اللہ عنھما سے وہ ابو میمونہ سلیمان سے راوی ۱؎جو اہلِ مدینہ کے مولیٰ ہیں فرماتے ہیں کہ اس حال میں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت فارسی ان کے پاس آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا اور اسے اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی ان دونوں نے بچہ کا دعویٰ کیاعورت نے فارسی میں کلام کیا ۲؎بولی اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچے کو لے جائے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر قرعہ ڈال لو آپ نے فارسی میں یہ فرمایا ۳؎پھر اس کا خاوند آیابولا کہ میرے بچہ میں مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے۴؎تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا الٰہی میں نہیں کہتا ۵؎مگر اس لیے کہ میں بیٹھا ہوا تھا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کہ آپ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی بولی یارسول اﷲمیرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچہ کو لے جائے ۶؎حالانکہ یہ بچہ مجھے آرام پہنچاتاہے مجھے ابو عنبہ کے کنوئیں سے پانی پلاتا ہے ۷؎اور نسائی کے ہاں کہ میٹھا پانی پلاتا ہے ۸؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر تم دونوں قرعہ ڈال لو تو خاوند بولا میرے بچہ کے متعلق مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے ۹؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ تیرا باپ ہےاور یہ تیری ماں ہے تو ان میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑلیا ۱۰؎(ابوداؤد،نسائی)لیکن نسائی نے مسند کا ذکر کیا اور دارمی نے ہلال ابن اسامہ سے روایت کی۔
عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ، مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَادَّعَيَاهُ فَرَطَنَتْ لَهُ تَقُولُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ رَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ:مَنْ يُحَاقُّنِي فِي ابْنِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا إِلَّا أَنِّي كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ -وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: مِنْ عَذْبِ الْمَاءِ- فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَهِمَا عَلَيْهِ" فَقَالَ زَوْجُهَا: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ" فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لَكِنَّهُ ذَكَرَ الْمُسْنَدَ، وَرَوَاهُ الدَّارمِيُّ عَن هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3381 ، باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان