- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص پیوند لگانے کے بعد درخت کھجور خریدے ۱؎تو اس کے پھل بیچنے والے کے ہوں گے ہاں مگر خریدار شرط لگائے ۲؎اور جو کوئی ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو۳؎تو اس کا مال بیچنے والے کا ہوگا ہاں مگر یہ کہ خریدار شرط لگائے ۴؎(مسلم)بخاری نے صرف پہلی صورت بیان کی۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهٗ مَالٌ فَمَالُهٗ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَى البُخَارِيُّ الْمَعْنَى الأَوَّلَ وَحْدَهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2875 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
روایت ہے حضرت جابر سے کہ آپ ایک اونٹ پر سفرکررہے تھے جو تھک گیا تھا اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم گزرے تو اسے مارا تو وہ اونٹ ایسی رفتار سے چلنے لگا کہ ایسا کبھی نہ چلتا تھا ۱؎پھر حضور نے فرمایا اسے میرے ہاتھ ایک اوقیہ میں بیچ دو ۲؎میں نے بیچ دیا مگر اپنے گھر تک اس کی سواری کی شرط لگائی ۳؎پھر جب میں مدینہ آیا تو حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ لایا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت کھری کردی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی قیمت عطا فرمائی اور اونٹ بھی واپس دے دیا ۴؎(مسلم،بخاری)اور بخاری کی ایک روایت ہے کہ آپ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ انہیں قیمت ادا کردو کچھ زیادہ بھی دے دو تو انہوں نے ایک قیراط زیادہ دیا ۵؎
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّهٗ كَانَ يَسِيرُ عَلٰى جَمَلٍ لَهٗ قَدْ أَعْيَافَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهٖ فَضَرَبَهٗ فَسَارَ سَيْرًا لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهٗ ثُمَّ قَالَ: «بِعْنِيهِ بِاُوْقِيَّةٍ» قَالَ: فَبِعْتُهٗ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهٗ إِلٰى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهٗ بِالجَمَلِ وَنَقَدَنِي ثَمَنَهٗ وَفِي رِوَايَةٍ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهٗ وَرَدَّهٗ عَلَيَّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ أَنَّهٗ قَالَ لِبِلَالٍ: «اقْضِهٖ وَزِدْهُ» فَأَعْطَاهُ وَزَادَهٗ قِيرَاطًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2876 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ آئیں بولیں کہ میں نو اوقیہ پر مکاتبہ ہوگئی ہوں ہر سال میں ایک اوقیہ ۱؎آپ میری امداد فرمائیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا اگر تمہارے مولٰی یہ پسند کریں کہ میں انہیں سارا روپیہ ایک دم گن دوں اور تمہیں آزادکروں اور تمہاری ولا میرے لیے رہے ۲؎وہ اپنے مولاؤں کے پاس گئیں انہوں نے اس کا انکار کیا مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے ہو۳؎اس پر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تم انہیں لے لو اور آزاد کردو۴؎پھر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے لوگوں کے مجمع میں قیام فرمایا اللّٰه کی حمدوثناء کی ۵؎پھر فرمایا بعد حمد وثناء کے لوگوں کا کیا حال ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللّٰه کی کتاب میں نہیں ہیں ۶؎جو شرط بھی ایسی ہو جو اللّٰه کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے،اگرچہ سو شرطیں ہوں ۷؎لہذا اللّٰه کا فیصلہ لائق عمل ہے اور اللّٰه کی شرط بہت مضبوط ہے ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے ۸؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ عَلٰى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وُقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عُدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَذَهَبَتْ إِلٰى أَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِيهَا وَأَعْتِقِيهَا» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا أبعد فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللّٰهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللّٰهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2877 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ولاء کی فروخت اور اس کے ہبہ سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2878 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
روایت ہے حضرت مخلد ابن خفاف سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے ایک غلام خریدا میں نے اس کی آمدنی وصول کرلی پھر میں اس کے ایک عیب پر مطلع ہوا ۲؎تو میں نے اس کا مقدمہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے مجھے اس کے واپس کردینے کا فیصلہ اور اس کی آمدنی لوٹا دینے کا حکم دیا ۳؎پھر میں حضرت عروہ کے پاس گیا اور انہیں خبر دی وہ بولے شام کو میں ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ حضرت عائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس جیسے مقدمہ میں فیصلہ یہ فرمایا کہ آمدنی خرچ کے عوض ہے ۴؎چنانچہ عمر کے پاس عروہ گئے تو انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ آمدنی اس شخص سے واپس لے لو جسے دے دینے کا حکم مجھے دیا تھا ۵؎(شرح سنہ)
عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهٗ ثُمَّ ظَهَرْتُ مِعَهٗ عَلٰى عَيْبٍ فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلٰى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَضٰى لِي بِرَدِّهٖ وَقَضٰى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهٖ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ فَأُخْبِرُهٗ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضٰى فِي مِثْلِ هٰذَا: أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَقَضٰى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضٰى بِهٖ عَلَيِّ لَهٗ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2879 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جب بائع و خریدار جھگڑ پڑیں ۱؎تو بائع کی بات معتبر ہے اور خریدار کو اختیار ہے ۲؎(ترمذی)اور ابن ماجہ و دارمی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ بائع و خریدار جب جھگڑ پڑیں اور چیز ویسی ہی موجود ہو اور ان کے درمیان گواہ کوئی ہو نہیں تو قول وہ ہی ہوگا جو بائع کہے یا دونوں بیع واپس کر لیں ۳؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ وَالْمُبْتَاعُ بِالخِيَارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ إِذَا اخْتَلَفَا وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهٖ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرادَّانِ الْبَيْعَ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2880 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو مسلمان کی فسخ بیع قبول کرے تواللّٰهقیامت کے دن اس کی غلطیاں معاف فرمادے گا ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)اور شرح سنہ میں مصابیح کے لفظ بطریق ارسال شرح شامی سے روایت کیے ۲؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَاْلَهُ اللّٰهُ عَثْرَتَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»بِلَفْظِ «الْمَصَابِيحِ» عَنْ شُرَيْحِ الشَّامِي مُرْسَلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2881 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص نے دوسرے سے زمین خریدی تو زمین کے خریدار نے اپنی اس زمین میں ایک مٹکی پائی جس میں سونا بھرا تھا ۱؎تو خریدار نے بائع سے کہا اپنا سونا مجھ سے لے لو میں نے تم سے زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا تھا بیچنے والا بولا میں نے تو تیرے ہاتھ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب بیچ دیا۲؎چنانچہ یہ دونوں ایک شخص کے پاس مقدمہ لے گئے تو جسے انہوں نے پنچ بنایا تھا وہ بولا ۳؎کیا تم دونوں کے اولاد ہے تو ان میں سے ایک بولا کہ میرے لڑکا ہے تو دوسرا بولا میری لڑکی ہے پنچ نے کہا لڑکے کا لڑکی سے نکاح کردو اور ان پر خرچ کرو اور بچا ہوا خیرات کردو ۴؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم: " اِشْتَرٰى رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَقَارًا مِنْ رَجُلٍ فَوَجَدَ الَّذِي اشْتَرٰى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهٖ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرٰى الْعَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ عَنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ الْعَقَارَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ. فَقَالَ بَائِعُ الْأَرْضِ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلٰى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلَامٌ، وَقَالَ الآخر: لِي جَارِيَةٌ،. فَقَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقُوا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2882 ، باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان