باب: اختیار کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خرید و فروخت کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی پر اختیار ہے ۱؎جب تک وہ الگ نہ ہوں ۲؎سواء خیار والی بیع کے ۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب تاجر و خریدار تجارتی کاروبار کریں تو اس بیع میں ہر ایک مختار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۴؎یا ان کی بیع ہی اختیار کی ہوجب بیع اختیار کی ہے تو اختیار لازم ہو گیا ۵؎اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ خریدار اور بائع مختار ہیں ۶؎جب تک الگ نہ ہوں یا اختیار رکھیں اور مسلم،بخاری کی روایت میں بجائے اختیار کے یوں ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے تو اختیار رکھ ۷؎

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالخِيَارِ عَلٰى صَاحِبِهِمَا لَمْ يَتَّفَرَقَا إِلَّا بَيع الْخِيَارِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كانَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ»وَفَى رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «الْبَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا» . وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: " أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ : اخْتَرْ «بَدَلَ» أَوْ يَخْتَارَا "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2801 ، باب: اختیار کا باب

روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ تاجرو خریدار مختار ہیں جب تک الگ نہ ہوں اگر سچ بولیں اور اصل بات ظاہر کردیں تو انہیں اس تجارت میں برکت ہوگی اور اگر جھوٹ بولیں اور چھپائیں تو ان کی تجارت کی برکت مٹادی جائے گی۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَن حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوِرَكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2802 ، باب: اختیار کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں خریدو فروخت میں دھوکا کھا جاتا ہوں فرمایا جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو دھوکا نہ ہو ۱؎چنانچہ وہ صاحب یہ کہہ دیا کرتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ: " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2803 ، باب: اختیار کا باب

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تاجر و خریدار مختار ہیں جب تک کہ الگ نہ ہوں ۲؎مگر یہ کہ عقد ہی اختیار کا ہو ۳؎اور اسے یہ درست نہیں کہ فسخ تجارت کے ڈر سے اپنے ساتھی سے الگ ہوجائے ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهٗ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهٗ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2804 ، باب: اختیار کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا دو شخص ایک دوسرے کو راضی کئے بغیر الگ نہ ہوں ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَفَرَّقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2805 ، باب: اختیار کا باب

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک بدوی کو بیع کے بعد بھی اختیار دیا ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہےصحیح ہےغریب ہے۔

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم خيَّرَ أعرابيَّاً بَعْدَ الْبَيْعِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2806 ، باب: اختیار کا باب