باب : قنوت کا بیان

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب کسی پر بددعا یادعا کرنے کا ارادہ کرتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے ۱∞؎بار ہا جب "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" کہتے تو کہتے الٰہی ولید ابن ولید سلمہ ابن ہشام عیاش ابن ربیعہ کو نجات دے ۲؎الٰہی سخت پامالی ڈال مضر پر اور اسے یوسف علیہ السلام کی قحط سالیوں کی طرح قحط سالی بنا۳؎یہ بآواز بلند کہتے ۴؎اور اپنی بعض نمازوں میں فرماتے الٰہی فلاں فلاں عربی قبیلوں پر لعنت کر ۵؎حتی کہ رب نے یہ آیت نازل فرمائی "لَیۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ" ۶؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلیٰ أَحَدٍ أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ: اَللّٰهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ ابْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ رَبِيعَةَ اَللّٰهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلیٰ مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ"يَجْهَرُ بِذٰلِكَ وَكَانَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهٖ: " اَللّٰهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِأَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ حَتّٰى أَنْزَلَ اللهُ :( لَیۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ)الْآيَة (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1288 ، باب : قنوت کا بیان

روایت ہے حضرت عاصم احول سے فرماتے ہیں میں نے انس ابن مالک سے نماز میں قنوت کے متعلق پوچھا کہ رکوع سے پہلے تھی یا بعد میں تو فرمایا پہلےتھی ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے رکوع کے بعد تو صرف ایک ماہ قنوت پڑھی کہ آپ نے ایک لشکر بھیجا تھا جنہیں قراء کہا جاتا تھا ستر مرد تھے وہ شہیدکردیئے گئے ۲؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک ماہ قنوت پڑھی ان پر بددعا کرتے ہوئے۔(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَاصِمِ الْأَحْوَلِ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ فِي الصَّلَاةِ كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: قَبْلَهٗ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا إِنَّهٗ كَانَ بَعَثَ أُنَاسًا يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ سَبْعُونَ رَجُلًا فَأُصِيبُوا فَقَنَتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1289 ، باب : قنوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک ماہ مسلسل ظہر،عصر،مغرب،عشاء اور نماز فجر میں قنوت پڑھی ۱∞؎جب آخری رکعت میںسَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَہکہتے تو بنی سلیم کے کچھ قبیلوں رعل و ذکوان اور عصیہ پر بددعا کرتے اور پیچھے والےآمینکہتے ۲؎(ابوداؤد)

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعشَاء وَصَلَاةِ الصُّبْحِ إِذا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَة يَدْعُو عَلیٰ أَحْيَاءٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ: عَلیٰ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1290 ، باب : قنوت کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی پھر چھوڑ دی ۱∞؎(ابوداؤد,نسائي)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1291 ، باب : قنوت کا بیان

روایت ہے حضرت ابو مالک اشجعی ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا ابا جان آپ نے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ابوبکر،عمر،عثمان،اور علی کے پیچھے اور یہاں کوفے میں حضرت علی کے پیچھے قریبًا پانچ سال ۲؎نمازیں پڑھیں ہیں کیا یہ لوگ قنوت پڑھتے تھے فرمایا بیٹے یہ بدعت ہے۳؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي مَالكٍ الْأَشْجَعِيّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هٰهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1292 ، باب : قنوت کا بیان

روایت ہے حضرت حسن سے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے لوگوں کو ابن ابی کعب پر جمع کیا ۱∞؎کہ آپ انہیں بیس راتیں نماز پڑھاتے جن میں باقی آدھے کے علاوہ دعا قنو ت نہ پڑھتے ۲؎جب آخری عشرہ ہوتا تو رہ جاتے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرتے ۳؎لوگ کہتے ابی بھاگ گئے ۴؎(ابوداؤد)

عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلیٰ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلّٰى فِي بَيْتِهٖ فَكَانُوا يَقُولُونَ: أَبَقَ أُبَيْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1293 ، باب : قنوت کا بیان

اورحضرت انس ابن مالک سے قنوت کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی اور ایک روایت میں کہ رکوع سے پہلے اور اس کے بعد۱؎(ابن ماجہ)

وَسُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ. فَقَالَ: قَنَتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ الرُّكُوعِ وَفِي رِوَايَةٍ: قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1294 ، باب : قنوت کا بیان