- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : نوافل کا بیان
باب : نوافل کا بیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فجر کے وقت بلال سے فرمایا ۱∞؎کہ اے بلال مجھے اپنے امید افزا کام کی خبر دو جو تم نے اسلام میں کیا کیونکہ میں نےتمہارےنعلین کی آہٹ جنت میں اپنے آگےسنی ۲؎فرمایا میں نے اپنے نزدیک کوئی امید افزا کام نہیں کیا بجز اس کے کہ دن اور رات کی کسی گھڑی میں وضو نہیں کیا مگر اس وضو سے اس قدر نماز پڑھ لی جو میرے مقدر میں تھی ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجٰى عَمَلٍ عَمِلْتَهٗ فِي الْإِسْلَامِ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَقَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيْ فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجٰى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذٰلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1322 ، باب : نوافل کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سارے کاموں میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے ۱∞؎فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے ۲؎تو فرض کے سوا دو رکعتیں پڑھے۳؎پھر کہے الٰہی میں تیرے علم کی مدد سے تجھ سے خیرات مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلہ سے تجھ سے قدرت مانگتا ہوں۴؎اور تیرا بڑا فضل مانگتا ہوں تو قادر ہے اور میں قادرنہیں تو جانتا ہے میں نہیں جانتا ۵؎تو غیبوں کا جاننے والا ہے،الٰہی اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے لیے دین و دنیا اور انجام کار میں یا فرمایا میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں بہتر ہو ۶؎تو اسے میرے لیے مقدر فرمادے اور مجھ پر آسان کردے پھر مجھے برکت دے ۷؎اور اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے دین و دنیا میں اور انجام کار میں یا فرمایا کہ میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں شر ہو تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے ۸؎اور میرے لیے بھلائی مقدرکر جہاں ہو۹؎پھر مجھے اس پر راضی کردے فرمایا اور اپنی حاجت کا نام لے ۱۰؎(بخاری)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ اَللّٰهُمَّ إِنَّ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أوقَال فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهٖ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهٖ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقَدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهٖ ".قَالَ: «وَيُسَمِّيْ حَاجَتَهٗ». رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1323 ، باب : نوافل کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر نے خبر دی اور ابوبکر سچے ہیں ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسا کوئی شخص نہیں جو گناہ کرے پھر اٹھے وضو کرلے پھر نماز پڑھے پھر الله سے معافی چاہے مگر الله اسے بخش دیتا ہے ۲؎پھر یہ آیت پڑھی اور وہ لوگ کہ جب برائی کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرڈالیں تو الله کو یاد کریں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہیں ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)ابن ماجہ نے آیت کا ذکر نہیں کیا۔
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللهَ إِلَّا غَفَرَ الله لَهٗ ثمَّ قَرَأَ: (وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوْا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَه لم يَذْكُرِ الْآيَةَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1324 ، باب : نوافل کا بیان
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو نماز پڑھتے ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهٗ أَمْرٌ صَلّٰى . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1325 ، باب : نوافل کا بیان
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صبح کی تو بلال کو بلایا فرمایا کہ تم کس وجہ سے جنت میں مجھ پر سبقت لے گئے میں جنت میں کبھی بھی نہ گیا مگر اپنے سامنے تمہاری آہٹ سنی ۱∞؎عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم میں نے کبھی اذان نہ کہی مگر دو رکعتیں پڑھ لیں اور مجھے کبھی حدث نہ ہوا مگر اسی وقت میں نے وضو کرلیا ۲؎اور میں نے سمجھ لیا کہ مجھ پر الله کے لیئے دو رکعتیں لازم ہیں تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا انہی کی وجہ سے۳؎(ترمذی)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: «بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهٗ وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلّٰهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «بِهِمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1326 ، باب : نوافل کا بیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس کو الله سے یا کسی انسان سے حاجت ہو ۱∞؎تو وہ اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں پڑھ لے پھر الله کی حمد کرے اور نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجے ۲؎پھر کہے رب کے سوا کوئی معبود نہیں،حلم والا ہے،کرم والا ہے، الله پاک ہے،بڑے عرش کا مالک ہے۳؎سب تعریفیں جہانوں کے مالک الله کی ہیں الٰہی میں تجھ سے تیری رحمت کے اسباب اور تیری بخشش کے اعمال اور ہر نیکی میں سے غنیمت اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتا ہوں ۴؎میرا کوئی گناہ بغیر بخشے اور کوئی غم بغیر دور کیے نہ چھوڑ جو تیری رضا کا باعث ہے مگر اسے پوری کردے اے رحم کرنے والوں سے بڑا رحم کرنے والے۔(ترمذی و ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ۵؎
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ إِلَى اللهِ أَوْ إِلٰى أَحَدٍ مِّنْ بَنِيْ آدَمَ فَليَتَوَضَّأ فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوءَ ثُمَّ لْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لْيُثْنِ عَلَی اللهِ تَعَالٰى وَلْيُصَلِّ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لْيَقُلْ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهٗ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهٗ وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1327 ، باب : نوافل کا بیان