باب : امام پر لازم امور

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے امام کے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھی جس کی نماز حضورنبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے ہلکی اور زیادہ پوری ہو ۱؎آپ بچے کے ر ونے کی آواز سنتے تو ہلکی کردیتے اس خوف سے کہ اس کی ماں گھبرا جائے گی ۲؎(مسلم، بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1129 ، باب : امام پر لازم امور

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور اسے دراز کرنا چاہتا ہوں کہ بچے کی رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز میں اختصار کرتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے اس کی ماں کی سخت گھبراہٹ جان لیتا ہوں ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهٖ مِنْ بُكَائِهٖ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1130 ، باب : امام پر لازم امور

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی کرے کہ ان میں بیمار اور کمزور اور بڈھے ہیں اور جب اکیلے پڑھے تو جتنی چاہے دراز کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُم لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ. وَإِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهٖ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ»”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1131 ، باب : امام پر لازم امور

روایت ہے حضرت قیس ابن حازم سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابو مسعود نے خبر دی کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله خدا کی قسم میں فلاں کی وجہ سے نماز فجر سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ دراز بہت کرتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ کسی وعظ میں غضب ناک نہ دیکھا پھر فرمایا کہ تم میں سے بعض نفرت والے ہیں جو کوئی بھی لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر کرے کیونکہ ان میں کمزور بوڑھے اور کام کاج والے ہیں ۱؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلّٰى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ: فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1132 ، باب : امام پر لازم امور

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہیں امام نماز پڑھایا کریں گے اگر درستی کریں تو تمہارے لیئے مفید ہے اور اگر خطا کریں تو تمہارے لیئے مفید ان کے لیئے مضر ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ».رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1133 ، باب : امام پر لازم امور

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری عہد کیا تھا وہ یہ تھا کہ جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ ۲؎(مسلم)اس کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله میں اپنے دل میں کچھ پاتا ہوں ۳؎فرمایا قریب آؤ مجھے اپنے سامنے بٹھایا اپنا ہاتھ میرے سینے پر دو پستانوں کے درمیان رکھا پھر فرمایا پھرو تو اپنا ہاتھ میری پیٹھ میں دو کندھوں کے درمیان رکھا پھر فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو ۴؎جو کسی قوم کا امام ہو تو نماز ہلکی پڑھائے کہ ان میں بڈھے بیمار مریض اور کمزور اور کام کاج والے ہیں اور جب کوئی نماز اکیلے پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ الصَّلَاةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهٗ : «أُمَّ قَوْمَكَ» . قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ: «ادْنُهْ» . فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهٗ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ثُمَّ قَالَ: «تَحَوَّلْ» . فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ثُمَّ قَالَ: «أُمَّ قَوْمَكَ فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فيهم الْكَبِيْرَ وَإِنَّ فِيْهِمُ الْمَرِيضَ وَإِنَّ فِيْهِمُ الضَّعِيفَ وَإِنَّ فِيْهِمُ ذَاالحَاْجَةِ فَإِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ وَحْدَهٗ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1134 ، باب : امام پر لازم امور

روایت ہے حصرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ہم کو ہلکی نماز کا حکم دیتے تھے اور خود صافات سے ہماری امامت کرتے تھے ۱؎(نسائی)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا ب(الصَّافَّاتِ)رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1135 ، باب : امام پر لازم امور