باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے عبداللہ ابن مسعود سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا حضور کو ن سا گناہ ۲؎بہت بڑا ہے اللہ کے ہاں فرمایا یہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ۔حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ۳؎عرض کیا پھر کون سا گناہ۔فرمایا یہ کہ اپنی اولاد اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے ۴؎عرض کیا پھر کون سا گناہ فرمایا یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۵؎تب اللہ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری اور وہ جو خدا کے ساتھ دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور نہ اس جان کو ناحق قتل کریں جسے اللہ نے حرام کیا ۶؎اور نہ زنا کریں۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ قَالَ أَنْ تَدْعُوَ لِلّٰهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثُمَّ أَيُّ قَالَ أَنْ تَزْنِیْ حَلِيْلَةَ جَارِكَ فَأنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيْقَهَا (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ الْآيَةْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 49 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے عبداللہ ابن عمر و سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شرکباللہ،ماں باپ کی نافرمانی ۱؎جان کا قتل،جھوٹی قسم ۲؎بڑے گناہ ہیں اسے بخاری نےروایت کیا۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْيَمِيْنُ الْغَمُوْسُ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 50 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

حضرت انس کی روایت میں بجائے جھوٹی قسم کے جھوٹی گواہی ہے۔(بخاری،مسلم)

وَفِيْ رِوَايَةِ أَنَسٍ:«وَشَهَادَةُ الزُّوْرِ» بَدَلَ: «الْيَمِيْنُ الْغَمُوْسِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 51 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ہلاکت کی چیزوں سے بچو۔لوگوں نے پوچھا حضور وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک ۱؎جادو ۲؎،اور ناحق اس جان کو ہلاک کرنا جواللہ نے حرام کی،اور سود خوری۳؎یتیم کا مال کھانا ۴؎،جہاد کے دن پیٹھ دکھادینا ۵؎،پاکدامن مؤمنہ بے خبر بیبیوں کو بہتان لگانا ۶؎(∞بخاری،مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اِجْتَنِبُوْا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوْا يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشِّرْكُ بِاللّٰهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيْمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 52 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں ہوتا کہ زانی زنا کرنے کی حالت میں مؤمن ہو ۱؎اور نہ یہ کہ چور چوری کرنے کی حالت میں مؤمن ہو اور نہ یہ کہ شرابی شراب پینے کی حالت میں مؤمن ہو اور نہ یہ کہ ڈاکوڈکیتی کرنےکی حالت میں مؤمن ہوکہ لوگ اپنے مال کو ترستی نگاہ اٹھا کر دیکھتے رہ جائیں ۲؎اور نہ یہ کہ خائن خیانت کرنے ۳؎کی حالت میں مؤمن ہو لہذا ان سےبچو،ان سےبچو۔ (مسلم،بخاری)

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِيْنَ يَزْنِيْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِيْنَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِيْنَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسَ إِلَيْهِ فِيْهَا أَبْصَارَهُمْ حِيْنَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِيْنَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ إيَّاكُمْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 53 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

حضرت ابن عباس کی روایت میں یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ قاتل قتل کرنے کی حالت میں مؤمن ہو ۱؎حضرت عکرمہ ۲؎فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ ان سے ایمان کیونکرنکل جاتا ہے آپ نے فرمایاایسے اور اپنی انگلیوں کوگتھی کر دیاپھر انگلیوں کو نکالا۳؎کہ اگر توبہ کرے تو ایمان اس طرح لوٹ آتاہے ۴؎پھر انگلیاں گتھی کریں ابو عبداللہ فرماتے ہیں ۵؎کہ یہ لوگ کامل مؤمن نہیں رہتے اور نہ اُن میں نور ایمانی رہتاہے۔یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «وَلَا يَقْتُلُ حِيْنَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ قَالَ: هٰكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هٰكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: لَا يَكُونُ هٰذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهٗ نُورُ الْإِيمَانِ. هٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 54 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی تین علامتیں ہیں ۱؎مسلم نے یہ زیادتی بھی بیان کی کہ اگر یہ روزہ رکھے،نماز پڑھے،اپنے کو مسلمان سمجھے۔پھرمسلم و بخاری متفق ہوگئے کہ جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ» . زَادَ مُسْلِمٌ: «وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَ زَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ» . ثُمَّ اتَّفَقَا «إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 55 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں ۱؎چار عیوب ہوں وہ نرا منافق ہے ۲؎اورجس میں ایک عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ اُسے چھوڑ نہ دے جب امانت دی جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں بکے۳؎

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ إِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذا خَاصَمَ فَجَرَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 56 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے ۱؎(چکر لگائے)کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی اس بکرے کے پاس۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيْرُ إِلٰى هَذِهٖ مَرَّةً وَإِلٰى هَذِهٖ مَرَّةً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 57 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال سے ۱؎فرماتے ہیں کہ یہودی اپنے ساتھی سے بولا کہ مجھے ان نبی کے پاس لے چل ساتھی بولا کہ انہیں نبی نہ کہو ۲؎اگر وہ سن لیں گے تو انکی چار آنکھیں ہوجائیں گی ۳؎پھر وہ دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کھلی نشانیوں کے بارے میں پوچھا ۴؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کسی چیز کو اللہ تعالٰی کا شریک نہ ٹھہراؤ ۵؎نہ چوری کرو،نہ زنا کرو،نہ ناحق کسی محترم جان کو قتل کرو،نہ کسی بےقصورکو حاکم کے پاس لے جاؤ تاکہ اسے قتل کردے ۶؎اور نہ جادو کرو نہ سود کھاؤ۷؎نہ پاکدامن کو زنا کا بہتان لگاؤ،نہ جہاد کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ پھیرو۸؎اور اے یہودیو تم پر خصوصًا یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نہ بڑھو ۹؎راوی فرماتے ہیں کہ تب ان دونوں نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے۱۰؎اور بولےہم گواہ ہیں کہ آپ سچے نبی ہیں ۱۱؎حضور نے فرمایا پھر تمہیں میری پیروی سے کون چیز روکتی ہے ۱۲؎وہ بولے کہ داؤد علیہ السلام نے رب سے دعا کی تھی کہ انکی اولادمیں نبوت رہے
۱۳
؎ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کر لیں تو ہم کو یہودی مار ڈالیں گے۔(ابوداؤد،ونسائی)

عَنْ صَفْوَانَ ابْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهٖ اِذْهَبْ بِنَا إِلٰى هٰذَا النَّبِيِّ فَقَالَ لَہٗ صَاحِبُهٗ لَا تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعُ أَعْيُنٍ فَأَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَئَلَاهُ عَنْ اٰيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: «لَا تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوْا بِبَرِيءٍ إِلٰى ذِيْ سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلَا تَسْحَرُوْا وَلَا تَأْكُلُوْا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوْا مُحْصِنَةً وَلَا تَوَلَّوْا لِلْفِرَارِ يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً الْيَهُودَ أَنْ لَا تَعْتَدُوْا فِي السَّبْتِ» . قَالَ فَقَبَّلَا يَدَیْهِ وَرِجْلَیْهِ وقَالَ نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُوْنِيْ قَالَ إِنَّ دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ دَعَا رَبَّهٗ أَنْ لَا يَزَالُ مِنْ ذُرِّيَّتِهٖ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 58 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزیں ایمان کی بنیاد ہیں ۱؎جولَااِلٰہَ اِلّا ﷲکہے اس سے زبان روکنا ۲؎یعنی محض گناہ سے اُسے کافر نہ کہے۳؎اور نہ اسے اسلام سے خارج جانے محض کسی عمل سے ۴؎اور جہاد جاری ہے جب سے مجھے رب نے بھیجا یہاں تک۵؎کہ اس امت کی آخری جماعت دجال سے جہاد کرے۶؎جہاد کو ظالم کا ظلم، منصف کا انصاف باطل نہیں کرسکتا۷؎اور تقدیروں پر ایمان ۸؎(ابو داؤد)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِيمَانِ الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تُكَفِّرُهٗ بِذَنْبٍ وَلَا تُخْرِجُهٗ مِنَ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُذْ بَعَثَنِيَ اللّٰهُ إِلٰى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ هٰذِهٖ الْأُمَّةِ الدَّجَّالَ لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ وَ الْإِيْمَانُ بِالْأَقْدَارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 59 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے اس کے سر پر شامیانہ کی طرح ہوجاتا ہے ۱؎پھر جب بندہ اس بدعمل سے علیحدہ ہوجاتا ہے تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيْمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ذٰلِكَ الْعَمَلِ رَجَعَ إِلَيْهِ الْاِيْمَانُ» رَوَاهُ الْتِّرْمِذِيُّ وَ أَبُوْدَاوٗدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 60 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کی وصیّت فرمائی ۱؎فرمایا رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانو اگرچہ ماردئیے جاؤ یا جلا دیئے جاؤ ۲؎اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرو اگرچہ وہ تمہیں اپنے گھر بار اور مال سے نکل جانے کا حکم کریں ۳؎فرض نماز عمدًا ہر گز نہ چھوڑو کیونکہ جو کوئی دانستہ نماز چھوڑ دے اس سےاللہ کا ذمہ و ضمان جاتا رہا ۴؎شراب ہرگز نہ پیو کہ یہ ہر بدکاری کا سر ہے ۵؎گناہ سے اپنے کو بچاؤ کیونکہ گناہ کی وجہ سے اللہ کی ناراضی نازل ہوتی ہے ۶؎جہاد سے بھاگ جانے سے بچو اگرچہ لوگ ہلاک ہوجائیں ۷؎اور جب لوگوں کو وبائی موت پہنچے اور تم ان میں ہو تو ثابت قدم رہو ۸؎اپنے بال بچوں پر اپنی کمائی سے خرچ کرو ۹؎اپنی تربیت کی قمچی ان سے نہ ہٹاؤ ۱۰؎انہیں اللہ سے ڈراتے رہو۔(احمد)

عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتُ وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهُ رَأَسَ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّ بالمعصية حل سخط الله وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ وَإِذا أصَاب النَّاس موت وَأَنت فيهم فَاثْبتْ وَأنْفق عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 61 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں ۱؎کہ نفاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا لیکن آج یا کفر ہے یا ایمان ۲؎(بخاری)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: إِنَّمَا النِّفَاقُ كَانَ عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكُفْرُ وَ الْاِيْمَانُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 62 ، باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات