30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۱۲: کسی عذر کی وجہ سے عید کے دن نماز نہ ہوسکی ( مثلاً سخت بارش ہوئی یا اَبر([1] ) کےسبب چاند نہیں دیکھا گیا اور گواہی ایسے وقت گزری کہ نماز نہ ہوسکی یا اَبر تھا اورنماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ زوال ہوچکا تھا) تو دوسرے دن پڑھی جائے اور دوسرے دن بھی نہ ہوئی تو عید الفطر کی نماز تیسرے دن نہیں ہوسکتی ا ور دوسرے دن بھی نماز کا وہی وقت ہے، جو پہلے دن تھا یعنی ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے نصف النہار شرعی تک اور اگر بلا عذر عید الفطر کی نماز پہلے دن نہ پڑھی تودوسرے دن نہیں پڑھ سکتے۔ (قاضی خان، عالمگیری، درمختار وبہار)
مسئلہ۱۳: عید الاضحی تمام اَحکام میں عید الفطر کی طرح ہے صرف بعض باتوں میں فرق ہے اِس میں مستحب یہ ہے کہ نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے اگرچہ قربانی نہ کرے اور کھالیا تو کراہت نہیں اور راستہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتا جائے اور عیدالاضحی کی نماز عذر کی وجہ سے بارہویں تک بلا کراہت مؤخر کرسکتے ہیں ، بارہویں کے بعد پھر نہیں ہوسکتی اور بلا عذر دسویں کے بعد مکروہ ہے۔ (قاضی خان، عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۱۴: قربانی کرنی ہو تو مستحب یہ ہے کہ پہلی سے دسویں ذی الحجہ تک نہ حجامت بنوائے نہ ناخن کٹوائے (ردالمحتار وبہار) بعد نمازِ عید مصافحہ([2] )و معانقہ([3] ) کرنا جیسا کہ عموماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے۔ (وشاح الجید و بہار شریعت)
تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک پانچوں وقت کی ہر فرض نماز کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو، ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب ہے اور تین بار کہنا افضل ہے، اِسے تکبیر تشریق کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں : اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَروَلِلّٰہِ الْحَمْد۔ (تنویر الابصار و بہار وغیرہ)
مسئلہ۱۵: تکبیر تشریق سلام پھیرنے کے بعد فوراً واجب ہے یعنی جب تک کوئی ایسا فعل نہ کیا ہو کہ اس نماز پر بنا نہ کرسکے اگرمسجد سے باہر ہوگیا یا قصداً وضو توڑ دیا یا کلام کیا اگرچہ سہواً تو تکبیر ساقط ہوگئی اور بلا قصد وضو ٹوٹ گیا، کہہ لے۔ (ردالمحتار ودرمختار وبہار)
تکبیر تشریق کس پر واجب ہے اور کب واجب ہے ؟
مسئلہ۱۶: تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے مقیم کی اِقتداء کی اگرچہ وہ اِقتداء کرنے والا عورت یا مسافر یا گاؤں کا رہنے والا ہو اوریہ لوگ اگر مقیم کی اِقتداء نہ کریں تو اُن پر واجب نہیں ۔ (درمختار و بہار)
مسئلہ۱۷: تکبیر تشریق ان اَیام میں جمعہ کے بعد بھی واجب ہے اور نفل و سنت ووتر کے بعد نہیں البتہ نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔ (درمختار)
سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی نماز مستحب ہے۔ سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہوسکتی ہے۔ اگر جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا جمعہ کی تمام شرطیں اس کے لیے شرط ہیں ۔ وہی شخص اس کی جماعت قائم کرسکتا ہے جو جمعہ کی کرسکتا ہے وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں گھر میں یا مسجد میں ۔ (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۱: گہن کی نماز اس وقت پڑھیں جب سورج میں گہن لگا ہو، گہن چھوٹنے کے بعد نہیں اور گہن چھوٹنا شروع ہوگیا مگر ابھی باقی ہے اس وقت بھی شروع کرسکتے ہیں اور گہن کی حالت میں اس پر اَبر آجائے جب بھی نماز پڑھیں ۔ (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ۲: ایسے وقت گہن لگا کہ اس وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے تو نماز نہ پڑھیں بلکہ دعا میں مشغول رہیں اور اِسی حالت میں ڈوب جائے تو دعا ختم کردیں اور مغرب کی نماز پڑھیں ۔ ( جوہرہ وردالمحتار)
مسئلہ۳: گہن کی نماز نفل کی طرح دو رکعت پڑھیں یعنی ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے کریں جیسے اور نمازوں میں کرتے ہیں ۔
مسئلہ۴: گہن کی نماز میں نہ اَذان ہے، نہ اِقامت، نہ بلند آواز سے قرأ ت اور نماز کے بعد دعا کریں ۔ یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اور دو رکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں خواہ دو دو رکعت پر سلام پھیر یں یا چار رکعت پر۔ (ردالمحتار و درمختار وفتح القدیر)
مسئلہ۵: اگر لوگ جمع نہ ہوئے تو ان لفظوں سے پکاریں اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃ۔ ([4] ) (د رمختار وفتح القدیر)
مسئلہ۶: افضل یہ ہے کہ عیدگاہ یا جامع مسجد میں اس کی جماعت قائم کی جائے اور اگر دوسری جگہ قائم کرے جب بھی حر َج نہیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۷: اگر یاد ہو تو سورۂ بقرۃ اور آل عمران کی برابر بڑی سورتیں پڑھیں اور رکوع و سجود میں بھی طول دیں اور بعد ِنماز دعا میں مشغول رہیں ، یہاں تک کہ پورا آفتاب کھل جائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع