30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۱} مصر یافنائے مصر {۲} بادشاہ {۳} وقت ِظہر
{۴} خطبہ {۵} جماعت {۶} اِذنِ عام([1] )
پہلی شرط: ِمصرو َفنائے مصر کا بیان
مصر سے وہ جگہ مرا دہے جس میں متعدد کوچے اور بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ([2] ) ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں کوئی حاکم ہو کہ اپنے دَبدبہ وسطوت([3]) کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے یعنی انصاف پر پوری قوت و قدرت ہو، اگرچہ ناانصافی کرتا اور بدلہ نہ لیتا ہو۔ فنائے مصر سے وہ جگہ مراد ہے جو مصر کے آس پاس مصر کی
مصلحتوں کے لیے ہو، جیسے قبرستان، گھڑ دوڑ کا میدان، فوج کے رہنے کی جگہ ، کچہری، اسٹیشن کہ یہ چیزیں شہر سے باہر ہوں تو فنائے مصر میں اِن کا شمار ہے اور وہاں جمعہ جائز ہے لہٰذا جمعہ یا شہر میں پڑھا جائے یا قصبہ میں یا اُن کی فنا میں اور گاؤں میں جائز نہیں ۔ (غنیہ وبہار شریعت وغیرہ)
مسئلہ۲: مصر کے لیے وہاں کا حاکم رہنا ضرور ہے اگر بطورِ دَورہ وہاں آگیا تو وہ جگہ مصر نہ ہوگی، نہ وہاں جمعہ قائم کیا جائے گا۔ (ردالمحتارو بہار شریعت)
مسئلہ۳: گاؤں کا رہنے والا شہر میں آیا اور جمعہ کے دن یہیں ر ہنے کا ارادہ ہے تو جمعہ فرض ہے۔
کیا شہر میں کئی جگہ جمعہ ہوسکتا ہے ؟
مسئلہ۴: شہر میں کئی جگہ جمعہ ہوسکتا ہے۔ چاہے شہر چھوٹا ہو یا بڑا اور جمعہ دو مسجدوں میں ہو یا زیادہ میں ۔ (درمختار وغیرہ)مگر بلا ضرورت بہت سی جگہ جمعہ قائم نہ کیا جائے کہ جمعہ شعائر اسلام سے ہے اور جامع جماعات ہے اور بہت سی مسجدوں میں ہونے سے وہ شوکت اسلامی باقی نہیں رہتی جو اجتماع میں ہوتی ہے نیز دفع حر َج کے لیے تعدد جائز رکھا گیاہے تو خوامخواہ جماعت پر ا گندہ کرنا([4] ) اور محلہ محلہ جمعہ قائم کرنا نہ چاہیے۔
اور ایک بہت ضروری بات جس کی طرف لوگوں کو بالکل توجہ نہیں یہ ہے کہ جمعہ کو اَور نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کرلیا اور جس نے چاہا پڑھادیا، یہ ناجائز ہے۔ اِس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہ ِاسلام یا اِس کے نائب کا کام ہے اور جہاں سلطنت اسلامی نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا عالم، فقیہ، سنی، صحیح العقیدہ ہو۔ وہ اَحکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطانِ اسلام کے قائم مقام ہے۔ لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے بغیر اُس کی اجازت کے نہیں ہوسکتا اور اگر یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں لیکن عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بناسکتے، نہ یہ ہوسکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔ (بہار شریعت)
بادشاہ اِس سے مراد سلطانِ اسلام یا اُس کا نائب ہے جس کو سلطان نے جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ سلطان عادل ہو یا ظالم جمعہ قائم کرسکتا ہے۔ یوہیں اگرزبردستی بادشاہ بن بیٹھا یعنی شرعاً اس کو حق امامت نہ ہو۔ مثلاً قریشی نہ ہو یا اور کوئی شرط نہ ہو تویہ بھی جمعہ قائم کرسکتا ہے۔ (درمختاروردالمحتار وغیرہ)
جمعہ کا وقت، وقت ِظہر ہے یعنی جو وقت ظہر کاہے، اُس وقت کے اندر جمعہ ہونا چاہیے تو اگر جمعہ کی نماز میں ، اگرچہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا تو جمعہ باطل ہوگیا، ظہر کی قضا پڑھیں ۔ (عامہ کتب)
جمعہ کے خطبہ میں شرط یہ ہے کہ وقت میں ہو اور نماز سے پہلے ہو اور ایسی جماعت کے سامنے ہو جو جمعہ کے لیے ضروری ہے یعنی کم سے کم خطیب کے سوا تین مرد ہوں اور اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سن سکیں اگر کوئی اَمر مانع نہ ہوتو اگر زَوال سے پہلے خطبہ پڑھ لیا یا نماز کے بعد پڑھا یا تنہا پڑھا یا عورتوں اور بچوں کے سامنے پڑھا تو ان سب صورتوں میں جمعہ نہ ہوا۔
مسئلہ۵: خطبہ اور نماز میں اگر زیادہ فاصلہ ہوجائے تو وہ خطبہ کافی نہیں ۔ (درمختار و بہار شریعت)
مسئلہ۶: خطبہ ذکر الٰہی کا نام ہے لہٰذا اگر صرف ایک بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یا سُبْحٰنَ اللّٰہ یا لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہا تو فرض ادا ہوگیا لیکن خطبہ کو اتنا مختصر کرنا مکروہ ہے۔ (درمختار وغیرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع