30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۱۶: جب چھ نمازوں کے قضا ہونے کی وجہ سے ترتیب ساقط ہوگئی تو اب اگر ان قضاؤں میں سے بعض پڑھ لیں کہ قضا چھ سے کم رہ گئیں تو ابھی ترتیب والا نہ ہوگا، جب تک چھیئوں کی قضا نہ پڑھ لے جب سب کی قضا پڑھ لے گا تب پھر صاحب ترتیب ہو جائے گا۔ (شرح وقایہ، عالمگیری ، درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۱۷: چھ یا اس سے زیادہ قضا نمازیں جس طرح اس قضا و ادا میں ترتیب کو ساقط کردیتی ہیں اسی طرح قضاؤں میں بھی ترتیب کو ساقط کردیتی ہیں قضاؤں میں بھی آپس میں ترتیب نہیں رہتی آگے پیچھے پڑھی جاسکتی ہیں ، جیسے کسی نے ایک مہینہ تک نماز نہ پڑھی پھر اس مہینہ کی نمازوں کی قضا اس طرح پر پڑھی کہ پہلے تیس فجر کی قضا پڑھی پھر اس کے بعد تیس ظہر کی قضا پڑھی اسی طرح پانچوں وقت کی قضا پڑھی تو اس طرح قضا پڑھنا بھی صحیح ہے۔ (عالمگیری )
مسئلہ۱۸: جس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں اگر چہ اُن کا پڑھنا جلد سے جلد واجب ہے مگر بال بچوں کے حقوق اور اپنی ضروریات کی وجہ سے تاخیر کرسکتا ہے لہٰذا کاروبار بھی کرے اور جو وقت فرصت کا ملے اس میں قضا پڑھتا رہے، یہاں تک کہ سب پوری ہوجائیں ۔ (درمختار)
مسئلہ۱۹: قضا نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے اُنہیں چھوڑ کر اُن کے بدلے قضائیں پڑھے تاکہ بری الذمہ ہوجائے البتہ تراویح اور بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ کی نہ چھوڑے۔
مسئلہ۲۰: جس کے ذمہ برسوں کی نمازیں قضا ہوں اور ٹھیک یاد نہ ہو کہ کتنے دن سے کون کون سی قضا ہوئی تو وہ یوں نیت کرکے پڑھے کہ سب سے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی اس کو ادا کرتا ہوں یا سب میں پہلی ظہر، عصر جس کی قضا پڑھنا چاہے اس کی نیت کرے او راسی طرح سب نمازوں کی قضا پڑھ ڈالے یہاں تک کہ یقین ہوجائے کہ سب ادا ہوگئیں ۔
آدمی چاہے عورت ہو یا مرد جب سے بالغ ہوتا ہے اُسی وقت سے اُس پر نماز، روزہ وغیرہ فرض ہوجاتا ہے۔ عورت کم سے کم نو برس میں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ برس میں بالغ ہوجاتی ہے اور مرد کم سے کم بارہ برس میں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ برس میں بالغ ہوجاتا ہے۔ پندرہ برس کی عمر والے کو چاہے مرد ہو یا عورت شرع میں بالغ مانا جاتا ہے چاہے بالغ ہونے کی نشانیاں پائی جاتی ہوں یا نہ پائی جاتی ہوں ۔
مسئلہ۲۱: اَن پڑھ یا گنوار ہونا یا عورت ہونا کوئی عذر نہیں سب پر شرع کی ضروری باتیں سیکھنا فرض ہے۔ اگر اپنے فرائض و واجبات کو نہ جانے گا تو گنہگار اور عذاب میں گرفتار ہوگا۔
جس کی نمازیں قضا ہوگئیں اور وہ مرگیا تو اگر فدیہ دینے کی وصیت کر گیا اور مال بھی چھوڑا تو تہائی مال سے ہر فرض اور وتر کے بدلے آدھا صاع([2] )گیہوں یا ایک صاع جو صدقہ کریں اور اگر مال نہ چھوڑا اور وارث فدیہ دینا چاہیں تو کچھ مال اپنے پاس سے یا قرض لے کر مسکین([3] )کو صدقہ دے دیں ۔ جب مسکین مال پر قبضہ کرلے تو اپنی طرف سے وارث کو ہبہ کر دے اور وارث بھی اُس پر قبضہ کرلے پھر یہ وارث مسکین کو دے دے۔ یوہیں لوٹ پھیر کر تے رہیں یہاں تک کہ سب نمازوں کا فدیہ ادا ہوجائے اور اگر مال چھوڑا لیکن کافی نہیں ہے جب بھی یہی کریں اور اگر مرنے والے نے فدیہ دینے کی وصیت نہ کی اور ولی اپنی طرف سے بطورِ اِحسان فدیہ دینا چاہے تو دے۔
مسئلہ۲۲: جس کی نمازوں میں نقصان و کراہت ہو وہ تمام عمر کی نمازیں پھیرے تو اچھا ہے اور کوئی خرابی نہ ہو تو نہ چاہیے اور کرے تو فجر و عصر کے بعد نہ پڑھے اور تمام رکعتیں بھری پڑھے اور وتر میں قنو ت پڑھ کر تیسری رکعت کے بعد قعدہ کرے اور ایک رکعت اور ملائے کہ چار ہو جائیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۲۳: بعض لوگ شب قدر یا آخر رمضان میں جو نماز قضائے عمری کے نام سے پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عمر بھر کی قضاؤں کے لیے یہ کافی ہے یہ بالکل غلط اور باطل محض ہے۔
شرع میں مسافر وہ ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے باہر ہوا۔
مسئلہ۱: دن سے مراد سال کا سب سے چھوٹا دن ہے اور تین دن کی راہ سے یہ مطلب نہیں کہ صبح سے شام تک چلے بلکہ دن کا اکثر حصہ مراد ہے مثلاً شروع صبح صادق سے دوپہر ڈھلنے تک چلا پھر ٹھہر گیا پھر دوسرے اور تیسرے دن یوہیں کیا تو اتنی دور تک کی راہ کو مسافت سفر کہیں گے، دوپہر کے بعد تک چلنے میں بھی برابر چلنا مراد نہیں بلکہ عادۃًجتنا آرام لینا چاہیے اُتنا درمیان میں ٹھہرتا بھی جائے اور چلنے سے مراد درمیانی چال ہے، نہ تیز، نہ سست۔ خشکی میں آدمی اور اونٹ کی درمیانی چال کا اعتبار ہے اور پہاڑی راستہ میں اِسی حساب سے جو اس کے لیے
[1] عبادت میں کوتاہی کا کفارہ جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے دیا جائے، اُسے فدیہ کہتے ہیںاور نماز کا فدیہ، یہ ہے کہ ہر نماز کے عوض ایک صدقۂ فطر شرعی فقیر کو خیرات کرے۔
[2] تقریباً2کلو سے80گرام کم (1920 گرام )
[3] وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہویہاں تک کہ کھانے اوربدن چھپانے کے لیے اس کامحتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔ (بہارشریعت، حصہ۵،۱/۹۲۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع