30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۴: سوتے میں یا بھولے سے نماز قضا ہوگئی تو اُس کی قضا پڑھنی فرض ہے البتہ قضا کا گناہ اس پر نہیں لیکن جاگتے ہی اور یاد آنے پر اگر مکروہ وقت نہ ہو تو اُسی وقت پڑھ لے دیر کرنا مکروہ ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۵: فرض کی قضا فرض ہے اور واجب کی قضا واجب ہے اور سنت کی قضا سنت یعنی وہ سنتیں جن کی قضا ہے جیسے فجر کی سنت جب کہ فرض بھی فوت ہوگیا ہو اور جیسے ظہر کی پہلی سنت جب کہ ظہر کا وقت باقی ہو۔ (عالمگیری، درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۶: قضا کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں عمر میں جب پڑھے گا بریٔ الذمہ ہو جائے گا ([1] ) لیکن اگر طلوع و غروب و زوال کے وقت پڑھی تو نہیں اس لیے کہ ان وقتوں میں نماز جائز نہیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۷: جو نماز جیسی فوت ہوئی اس کی قضا ویسی ہی پڑھی جائے گی۔ مثلاًسفر میں نماز قضا ہوئی تو چار رکعت والی دو ہی پڑھی جائے گی اگرچہ اِقامت کی حالت میں پڑھے اور جو اِقامت کی حالت میں فوت ہوئی تو چار رکعت والی کی قضا چار رکعت ہے اگرچہ سفر میں پڑھے البتہ قضا پڑھنے کے وقت کوئی عذر ہے تواُس کا اعتبار کیا جائے گا۔ مثلاً جس وقت فوت ہوئی اُس وقت کھڑا ہو کر پڑھ سکتا تھا اور اب کھڑا ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے یا اُس وقت اشارہ ہی سے پڑھ سکتا ہے تو اشارے سے پڑھے اور صحت کے بعد اِس کا اعادہ نہیں ۔ ([2] ) (عالمگیری ، درمختار)
مسئلہ۸: ایسا مریض([3] ) کہ اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھ سکتا اگر یہ حالت پورے چھ وقت تک رہی تو اس حالت میں جو نماز یں فوت ہوئیں اُن کی قضا واجب نہیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۹: مجنون کی حالت ِجنون میں جو نمازیں فوت ہوئیں اچھے ہونے کے بعد اُن کی قضا واجب نہیں جب کہ جنون نماز کے چھ وقت کا مل تک برابر رہا ہو۔ (عالمگیری)
قضا نمازوں میں ترتیب واجب ہونے کا بیان
مسئلہ۱۰: صاحب ترتیب یعنی جس کے ذمہ قضا نمازیں چھ سے کم ہیں اگر وہ قضا نماز کے یاد ہوتے ہوئے اور وقت میں گنجائش ہوتے ہوئے وقتی نماز پڑھے گا تو اس کی وقتی نماز نہ ہوگی۔ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نماز موقوف رہے گی اگر وقتی پڑھتا گیا اور قضا رہنے دی توجب دونوں مل کر چھ ہو جائیں گی یعنی چھٹی کا وقت ختم ہوجائے گا تو سب صحیح ہوجائیں گی اور اگر اس درمیان میں قضا پڑھ لی تو سب گئیں ، سب کو پھر سے پڑھے۔
مسئلہ۱۱: فوت نمازوں اور وقتی نماز میں ترتیب ضروری ہے جب کہ فوت نمازیں چھ سے کم ہوں یعنی پہلے قضا نمازیں پڑھ لے پھر وقتی پڑھے، جیسے آج کسی کی فجر و ظہر و عصر و مغرب قضا ہوگئیں تو وہ عشاء کی نماز نہیں پڑھ سکتا جب تک کہ ترتیب واراِن چاروں کی قضا نہ پڑھ لے۔
مسئلہ۱۲: اگر وقت میں اتنی گنجائش نہیں کہ وقتی اور سب قضائیں پڑھ لے تو وقتی نماز اور قضا نمازوں میں جس کی گنجائش ہو پڑھے، باقی میں ترتیب ساقط ہے۔ جیسے نماز عشاء اور وتر دونوں قضا ہوگئیں اور فجر کے وقت میں پانچ رکعت کی گنجائش ہے تو وِتر کی قضا پڑھ کے فجر کی پڑھ لے اور اگر چھ رکعت کی گنجائش ہے تو عشاء کی قضا پڑھ کر فجر پڑھے۔(شرح وقایہ)
مسئلہ۱۳: اگر وقت میں اتنی گنجائش ہے کہ مختصر طور پر پڑھے تو دونوں پڑھ سکتا ہے اور عمدہ طریقے سے پڑھے تو دونوں نمازوں کی گنجائش نہیں تو اس صورت میں بھی ترتیب فرض ہے اور بمقدار ِجواز جہاں تک اختصار کرسکتا ہے کرلے۔([4] ) (عالمگیری)
مسئلہ۱۴: چھ نمازیں جس کی قضا ہوگئیں کہ چھٹی کا وقت ختم ہوگیااس پر ترتیب فرض نہیں اب اگرچہ باوجود وقت کی گنجائش اور قضا کی یاد کے وقتی پڑھے گا۔ وقتی ہوجائے گی چاہے قضا نمازیں جو اس کے ذمہ ہیں سب ایک ساتھ قضا ہوئیں جیسے ایک دم سے چھ وقتوں کی نہ پڑھی یا سب ایک دم سے نہ ہوں بلکہ متفرق طور پر قضا ہوئیں جیسے چھ دن فجر نہ پڑھی اور باقی نمازیں پڑھتا رہا لیکن اِن کے پڑھتے وقت وہ فجر کی قضائیں بھولا رہا۔ ( ردالمحتار)
مسئلہ۱۵: جب چھ نمازیں قضا ہوگئیں کہ چھٹی کا وقت بھی جاتا رہا تو ترتیب فرض نہ رہی چاہے وہ سب پرانی ہوں یا بعض نئی بعض پرانی جیسے ایک مہینہ کی نماز نہ پڑھی پھر پڑھنی شروع کی پھر ایک وقت کی قضاہوگئی تو اس کے بعد کی نماز ہوجائے گی۔ اس لیے کہ اُس کے ذمہ چھ نمازوں سے زیادہ ہیں جن کی وجہ سے ترتیب جاتی رہتی ہے۔ ( ردالمحتار)
[1] بری الذمہ ہوجائے گا: یعنی سر سے بوجھ اتر جائے گا، اس کے سراس کا پڑھنا باقی نہ رہے گا۔ (۱۲منہ)
[2] اعادہ: پھر سے ٹھیک ٹھیک پڑھنا جیسا کہ ہونا چاہیے۔ (۱۲منہ)
[3] مریض: بیمار۔ (۱۲منہ)
[4] قانونِ شریعت کے دیگر نسخوں میں یہ مسئلہ ’’ کس نماز کی قضا معاف ہے ‘‘ کے تحت لکھا ہوا ہے جبکہ یہ مسئلہ قضا اور وقتی نمازوں میں ترتیب سے متعلق ہے جسے اسی عنوان کے تحت آنا چاہیے اور بہارِ شریعت میں بھی وقتی اور قضا نمازوں کے تحت ہی مذکورہے لہٰذا ہم نے عنوان کی مناسبت اور بہارِ شریعت کی مطابقت میں یہ مسئلہ یہاں لکھا ہے۔ المدینۃ العلمیۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع