دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qanoon-e-Shariat | قانون شریعت

book_icon
قانون شریعت

نہایت سخت جس سے بغیر اس کے چھڑائے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ عزت،  ذلت اُسی کے اختیار میں ہے،  جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلیل کرے،  مال ودولت اُسی کے قبضہ میں ہے جسے چاہے امیر کرے جسے چاہے فقیر کرے۔

ہدایت و گمراہی کس کی طرف سے ہے ؟ 

            ہدایت و گمراہی اُسی کی طرف سے ہے،  جسے چاہے ایما ن نصیب ہو،  جسے چاہے کفر میں مبتلا ہو،  وہ جو کرتا ہے حکمت ہے،  انصاف ہے،  مسلمانوں کو جنت عطا فرمائے گا۔ کافروں پر دوزخ میں عذاب کرے گا،  اُس کا ہر کام حکمت ہے،  بندہ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے،  اس کی نعمتیں اس کے احسان بے انتہا ہیں ،  وہی اِس لائق ہے کہ اُس کی عبادت کی جائے،  اُس کے سوا دوسرا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔

عقیدہ۲:  خدا تعالٰی کی تنزیہ

            اللّٰہتعالیٰ جسم و جسمانیات سے پاک ہے۔ یعنی نہ وہ جسم ہے،  نہ اس میں وہ باتیں پائی جاتی ہیں جو جسم سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ یہ اُس کے حق میں محال ہیں ۔ لہٰذا وہ زمان و مکان،  طرف و جہت،  شکل و صورت،  وزن ومقدار، زیادۃ ونقصان،  حلول([1] ) واتحاد،  توالد و تناسل،  حرکت و اِنتقال،  تغیر وتبدل وغیرہا جملہ اَوصاف و اَحوالِ جسم سے منزہ و بری  ہے اور قرآن و حدیث میں جو بعض الفاظ ایسے آئے ہیں مثلاً یَدْ ، ([2] ) وَجْہ ، ([3] ) رِجْل، ([4] ) ضَحِک([5] )  وغیرہا جن کا ظاہر جسمیت پر دلالت کرتاہے اُن کے ظاہری معنی لینا گمراہی وبدمذہبی ہے۔

الفاظِ متشابہ  کی تاویل

            اس قسم کے الفاظ میں تاویل کی جاتی ہے کیوں کہ اُن کا ظاہر مراد نہیں کہ اُس کے حق میں محال ہے۔ مثلاً یَدْکی تاویل قدرت سے اور وَجْھَہٗ کی ذات سے ،  اِستواء کی غلبہ و توجہ سے کی جاتی ہے لیکن بہتر و اسلم یہ ہے کہ بلا ضرورت تاویل بھی نہ کی جائے۔([6] ) بلکہ حق ہونے کا یقین رکھے اور مراد کو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے سپرد کرے کہ وہی جانے اپنی مراد،  ہمارا تو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ورسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے قول پر ایمان ہے کہ استواء حق ہے،  یدحق ہے اور اُس کا اِستواء مخلوق کا سا اِستواء نہیں ،  اس کا ید مخلوق کا سا ید نہیں ،  اس کا کلام دیکھنا سننا مخلوق کا سا نہیں۔

 عقیدہ۳:  اللّٰہتعالیٰ کی ذات وصفات نہ مخلوق ہیں نہ مقدور۔

عقیدہ۴:  کیا چیزیں حادِث ہیں اور کیا قدیم؟ 

        ذات و صفات ِالٰہی کی علاوہ جتنی چیزیں ہیں سب حادِث ہیں یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیں ۔

 عقیدہ۵:  صفاتِ الٰہی کو مخلوق کہنا یا حادِث بتانا گمراہی و بددینی ہے۔

 عقیدہ۶:   جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے علاوہ کسی اور چیز کو قدیم مانے یا عالم کے حادِث ہونے میں شک کرے وہ کافر ہے۔

عقیدہ۷:  جس طرح  اللّٰہ تعالیٰ عالم اور عالم کی ہر چیز کا خالق ہے اسی طرح ہمارے اَعمال و اَفعال کا بھی وہی خالق ہے۔([7])

اللّٰہ تعالٰی کی خا لقیت،  وُ جوب خود کے معنی

            اللّٰہ تعالیٰ واجب الوجود ہے ([8] )یعنی اس کا وجود ضروری ہے اور عدم محال۔

عقیدہ ۸:  اللّٰہ تعالیٰ کا علم و ارادہ

 



[1]     زیادۃو نقصان :یعنی بیشی و کمی۔   حلول : یعنی دو چیزوں کامل کر ایک ہوجانا۔   محال : جو کبھی کسی طرح نہ ہوسکے۔ (۱۲منہ)

[2]     یَد: ہاتھ

[3]     وَجْہ:چہرہ        

[4]     رِجْل:ٹانگ        

[5]     ضَحِک:ہنسنا

[6]    قولہ: تاویل نہ کی جائی۔ قال فی شرح المواقف:فالحق التوقف مع القطع بانہ لیس کاستواء الاجسام۔ (شرح المواقف،المرصد الرابع،المقصد الثامن:فی انہ تعالٰی صفۃ،۸/ ۱۲۵) اقول:وہذا مذہب السلف وفیہ السلامۃ والسد اد۔۱۲منہ غفرلہ

[7]     قولہ :  ہمارے اَفعال کا بھی وہی خالق ہے۔ اقول: وفی ’’ النسفیۃ وشرحھا ‘‘ : واللّٰہ تعالی خالق الافعال العباد من الکفر والایمان والطاعۃ والعصیان لا کما زعمت المعتزلۃ ان العبد خالق لافعالہ۔ (شرح العقائد النسفیۃ، اللّٰہ تعالی خالق لافعال العباد،ص۱۹۸) فی المواقف وشرحہ للسید:ان افعال العباد الاختیاریۃ واقعۃ بقدرۃ اللّٰہ تعالی وحدھا ولیس لقدرتھم تاثیر فیھا بل اللّٰہ سبحانہ اجری عادتہ بان یوجد فی العبد قدرۃ واختیارا فاذا لم یکن ہناک مانع اوجد فیہ فعلہ المقدور مقارنا لھا فیکون فعل العبد مخلوقا للّٰہ ابداعا واحداثا ومکسوبا للعبد والمراد بکسبہ ایاہ مقارنتہ لقدرتہ وارادتہ من غیران یکون ھناک منہ تاثیراومدخل فی وجودہ سوی کونہ محلا لہ و ھذا مذہب الشیخ ابی الحسن الاشعری۔ (شرح المواقف،ا  لمرصد السادس فی افعالہ تعالی، المقصد الاول، ۸ /۱۶۳)  مر؎۵مر؎۶ منہ سلمہ

[8]     ای الذات الواجب الوجود الذی یکون وجودہ من ذا تہ بمعنی ان ذا   تہ علۃ تامۃ مستقلۃ فی وجودہ ولا یحتاج فی وجودہ الی شیء غیر ذاتہ ای منفصلۃ عن ذاتہ املالا فی ذاتہ ولا فی صفاتہ الحقیقتہ مطلقاً فالمقتضی لوجودہ نفس ذاتہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن