دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qanoon-e-Shariat | قانون شریعت

book_icon
قانون شریعت

کہ باعث تقلیل جماعت ہے۔([1] )  (بحر،  درمختار،  خانیہ)

مسئلہ۱۲:  عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سونا مکروہ ہے۔

مسئلہ۱۳:  عشاء کی نماز کے بعد دنیا کی باتیں کرنا قصے کہانی کہنا سننا مکروہ ہے ضروری باتیں تلاوت قرآن شریف اور ذکراور دینی مسائل اور بزرگوں کے قصے اور مہمان سے بات چیت کرنے میں حرج نہیں ۔ یوہیں صبح صادق سے آفتاب نکلنے تک ذکرِ الٰہی کے سوا ہر بات مکروہ ہے۔  (درمختار،  ردالمختار)

مسئلہ۱۴:  جوشخص اپنے جاگنے پر بھروسا رکھتا ہو اس کو آخر رات میں وترپڑھنا مستحب ہے ورنہ سونے سے پہلے پڑھ لے،  پھر اگر آخر رات میں آنکھ کھلی تو تہجد پڑھے،  وتر دوبارہ پڑھنا جائز نہیں ۔ (قاضی خان)

مسئلہ۱۵:  بدلی کے دن([2] )عصر اور عشاء میں تعجیل مستحب ہے اور باقی نمازوں میں تاخیر مستحب ہے۔

مکروہ اَوقات

مسئلہ۱۶:  طلوع  ([3] )و غروب([4] )و نصف النہار([5] )،  ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں ۔ نہ فرض،  نہ واجب،  نہ نفل،  نہ ادا،  نہ قضا،  نہ سجدہ تلاوت،  نہ سجدہ سہو،  البتہ اس روز کی عصر کی نماز اگر نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی دیر کرنا حرام ہے۔

طلوع سے کیا مرا د ہے

مسئلہ۱۷:  طلوع سے مراد سورج کا کنارہ نکلنے سے لے کر پورا نکل آنے کے بعد اس وقت تک ہے کہ اس پر آنکھ چندھیانے لگے اور اتنا کل وقت بیس منٹ ہے۔

نصف النہار اور ضحویٰ کبریٰ کا بیان

مسئلہ۱۸:  نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے لے کر نصف النہار حقیقی یعنی سورج ڈھلنے تک ہے جس کو ضحوئہ کبریٰ کہتے ہیں ۔  

مسئلہ۱۹:   نصف النہار شرعی معلوم کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ آج جس وقت سے صبح صادق شروع ہوئی اس وقت سے لے کر سورج ڈوبنے تک جتنے گھنٹے ہوں ان کے دو حصے کرو پہلے حصے کے ختم پر نصف النہار شرعی شروع ہوجائے گی اور سورج ڈھلتے ہی ختم ہوجائے گی۔ مثلاً آج ۲۰مارچ کو چھ بجے شام کو سورج ڈوبا اور تقریباً چھ ہی بجے نکلا،  ۱۲ بجے دن کو ٹھیک دوپہر ہوئی اور ساڑھے چار بجے صبح کو صبح صادق ہوئی تو کل صبح صادق سے سورج ڈوبنے تک ساڑھے تیرہ گھنٹے ہوئے جس کا آدھا پونے سات گھنٹہ ہوا۔ اب صبح صادق کے شروع یعنی ساڑھے چار بجے سے یہ پونے سات گھنٹہ وقت گزرنے دو تو سوا گیارہ بج جائیں گے،  اب سوا گیارہ بجے نصف النہار شرعی یعنی ضحوہ کبریٰ شروع ہوا اور ٹھیک بارہ بجتے ہی جب سورج پچھم ([6] )کو ڈھلا ختم ہوا،  اس سے معلوم ہوا کہ آج پون گھنٹہ یعنی سوا گیارہ بجے دن سے بارہ بجے تک نصف النہار شرعی رہا یہ اتنا پون گھنٹہ کا وقت ناجائز وقت ہے۔

 تنبیہ: ان شہروں کے لحاظ سے یہ ایک تقریبی مثال ہے۔ مختلف مقامات و مختلف زمانوں میں کم و بیش بھی ہوگا،  ہر جگہ اور ہر دن کا اسی قاعدے سے ٹھیک ٹھیک ضحوہ کبری نکالیں ۔

مسئلہ۲۰: جنازہ اگر اوقاتِ ممنوعہ میں لایا گیا تو اُسی وقت پڑھیں کوئی کراہت نہیں ،  کراہت اس صورت میں ہے کہ پیشتر سے تیار موجود ہے اور دیر کی یہاں تک کہ وقت کراہت آگیا۔(عالمگیری،  ردالمحتار)

مسئلہ۲۱: اِن تینوں وقتوں میں تلاوتِ قرآنِ مجید بہتر نہیں ،  بہتر یہ ہے کہ ذکرو درود شریف میں مشغول رہے۔ (عالمگیری)

کن بارہ وقتوں میں نفل پڑھنا منع ہے ؟ 

مسئلہ۲۲:  بارہ وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے۔

{۱}صبح صادق سے سورج نکلنے تک کوئی نفل جائز نہیں ،  سوا فجر کی دو رکعت سنت کے۔ 

{۲} اپنے مذہب کی جماعت کے لیے اِقامت ہوئی تو اِقامت سے ختم جماعت تک نفل و سنت پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ اگر نماز فجر قائم ہوچکی اور جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہوگی تو حکم ہے کہ جماعت سے دور الگ فجر کی سنت پڑھ کر جماعت میں شریک ہو جائے اور اگر یہ جانتا ہے کہ سنت پڑھوں گا تو جماعت نہ ملے



[1]     یعنی نمازِ باجماعت میں حاضر ہونے والوں کی تعداد میں کمی کا باعث ہے۔

[2]     جس دن آسمان پر بادل ہوں۔

[3]     طلوع: نکلنا۔   (۱۲منہ)

[4]     غروب: ڈوبنا  (۱۲منہ)

[5]     نصف النہار: دوپہر۔  (۱۲منہ)

[6]     مغرب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن