Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کچھ اس رسالے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔

               عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کے رمضان ہال میں ۶جُمادَی الْاُخرٰی ۱۴۳۳ھ  (28.4.12) جمعے ا ور ہفتے کی درمیانی شب الیکڑانک میڈیا او ر پیپر میڈیا کے صَحافیوں اور دیگرمتعلقین کا مَدَنی مذاکرہ ہوا جورات گئے تک جاری رہا، ایک صحافی نے مَدَنی مذاکرے میں جبکہ ایک اور نے مَدَنی چینل کو دیئے جانے والے تأثُّرات میں  (جسے مَدَنی چینل پر دی جانے والی دعوتِ اسلامی کی  ’’ مَدَنی خبریں  ‘‘  کے اندر میں نے اپنی قیام گاہ پر سُنا)  صَحافت کے حوالے سے رہنمائی سے متعلق رِسالہ شائع کروانے کا مطالبہ کیا۔ میرا بھی پہلے ہی سے رِسالہ پیش کرنے کا ذِہن تھا اور اس ضِمْن میں میر ے پاس سوالاً جواباً کافی مواد موجود  تھا ، جو کہ بنام  ’’ اَخبار کے بارے میں سُوال جواب ‘‘  آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس کے مُؤلّف و علمائے مُفَتِّشین کو جزائے خیر عطافرمائے اور صَحافیوں ، اَخبار بینوں اور جملہ مسلمانوں کی دنیا وآخرت کیلئے نفع بخش بنائے۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

طالبِ غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و

بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کا پڑوس

۶شعبان المعظم ۱۴۳۳ھ

2012-6-27

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

اخبار کے بارے میں سوال جواب

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ پورا پڑھ لیجئےاِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

        مدینے کے سُلطان، رَحمت ِعالَمِیان، سَرورِ ذیشان، مَحبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عَظَمت نشان ہے: جسے کوئی مشکل پیش آئے اسے مجھ پر کثرت سے دُرُود پڑھنا چاہئے کیونکہ مجھ پر  دُرُودپڑھنا مصیبتوں اور بلاؤں کو ٹالنے والا ہے ۔ (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص ۴۱۴،بستان الواعظین للجوزی ص۲۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صَحافت کی تعریف

سُوال : ’’  صَحافت ‘‘ کی کیا تعریف ہے ؟

جواب : صَحافت کا لَفْظ   ’’  صَحیفہ ‘‘   سے نکلا ہے جس کے لُغوی معنٰی ہیں  ’’  کتاب یا رِسالہ  ‘‘  ۔  بَہَرحال عَمَلاًایک عرصۂ درازسے  ’’ صَحِیفہ ‘‘ سے مُراد ایسا مطبوعہ مَواد ہے جو مقرّرہ وقفوں کے بعد شائِع ہوتا ہے چُنانچِہ اِس مَفہوم میں  ’’ اخبار ‘‘ اور ’’ ماہناموں  ‘‘  کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔  ’’ صَحافت ‘‘ ، کسی بھی مُعامَلے کے بارے میں تحقیق اور پھر اُسے صَوتی، بَصری ( یعنی سننے ، دیکھنے)  یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارِئین (یعنی پڑھنے والے) ، ناظِرین یا سامِعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

 



Total Pages: 24

Go To