Book Name:Wazan kam karnay ka Tariqa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

وزن کم کرنے کا طریقہ

دُرُود شریف کی فضیلت

             رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلپذیر ہے : ذِکرِ الٰہی کی کثرت کرنا اور مجھ پر دُرُودِ پا ک پڑھنا فقر(یعنی تنگدستی) کو دُور کرتا ہے ۔   (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص۲۷۳، معرفۃُا لصّحابۃ لابی نعیم ج۲ص۵۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            جو کوئی وَزن کم کرنے کی نیّت کرے اُس کیلئے سب سے بڑی رُکاوَٹ  ’’  کھاؤں   کھاؤں   ‘‘  کا وظیفہ پڑھنے والا نفس ہے جو کہ کمزوری وغیرہ کے جھوٹے ڈَراوے دیتا رہتا ہے اوررہا کھانے پینے کا شوقین بندہ ! تووہ بھی پھرمَن بھاتا     ’’  ڈَراوا ‘‘  پا کر خوب کھاتا ، بدن بڑھاتا اور انجامِ کار طرح طرح کے اَمراض میں   پھنستا چلاجاتا ہے ۔ لہٰذا مدنی التجا ہے کہ آپ کا وَزن زیادہ ہے تو عبادت پر قوت حاصِل کرنے کی نیّت سے کم کرنے کا سنجیدَگی سے ذِہن بنایئے اور اِس پر مدد حاصِل کرنے کیلئے ابتداء ً چند روایتیں   وغیرہ پڑھئے تا کہ عزم میں   پختگی آئے ،  جب ذِہن بن جائے کہ مجھے دنیا و آخِرت کی بہتریاں   پانے کیلئے وزن مُعتَدِل(Normal) کرنا ہی کرنا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے بھلائی کی توفیق طلب کرتے ہوئے مزید آگے کی سطور پڑھئے ۔ ( وَزن کم کرنے کا طریقہ آگے آ رہا ہے )

دُبلا اور کم خَوربندہ اللّٰہ کو پسند ہے

            ٹھانس ٹھانس کر کھانا ، بدن موٹا بنانا اور اُبھری ہوئی توند لئے لئے پھرنا دیکھنے والے پربَہُت بُرا تأَثُّر چھوڑتا ہے ! اپنے وَزن کا خیال رکھئے کہ عبادت پر مدد حاصِل کرنے کی نیّت سے صحت اچھی اور وَزن مُعتَدِل(Normal)رکھنا کارِ ثوابِ آخِرت اور خوفِ خدا کے باعِث دُبلا پتلا ہونا باعثِ سعادت ہے ، فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے :  اللہ عَزَّ وَجَلَّکو تم میں   سب سے زِیادہ پسند وہ بندہ ہے جو کم کھانے والا اور خفیف ( یعنی ہلکے ) بَدَن والا ہے ۔ (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۲۰ حدیث ۲۲۱)

اللّٰہ  کوموٹا شخص  ناپسند ہے

            برائے کرم ! اپنے حال پر رَحم کیجئے ، یقین مانئے موٹاپا بذاتِ خود ایک منحوس مَرَض بلکہ بے شمار اَمراض کامجموعہ ہے ، موٹاپانیک کاموں   میں   رُکاوٹ بنتا ہے ،  موٹاپے کی سب سے بڑی اور تشویشناک آفت بیان کرتے ہوئے امیرُالْمُؤمِنِین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : اللہ تَعَالٰی موٹے ذِی علم کو ناپسند کرتا ہے ۔ (الجوع مع موسوعۃ ابن اَبِی الدُّنْیا ج۴ص۹۴  رقم ۸۱ ) کیونکہ موٹاپا غفلت اور زیادہ کھانے پر دلالت کرتا ہے اور یہ بُری بات ہے خاص طور پر ذِی علم کے لیے ۔ (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۹ ص۱۲ ) یاد رہے !علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ وہ فربہی ( یعنی موٹاپا) مذموم ہے جو (بہت کھانے پینے اور عیش وعشرت کے ذریعے ) قصداً پیداکی جائے ، قدرتی موٹاپے کا یہاں   ذِکر نہیں   ہے ۔ (مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۱۰ ص۳۶۲ تحتَ الحدیث ۶۰۱۰ ) (موٹاپے کی وجہ سے کسی مسلمان پر ہنس کر، چھیڑ کر دل دُکھانا گناہ ہے )

وزن دار شخص کا مذاق اڑانا حرام ہے

            اگر کوئی زیادہ کھاتا ہو، بے شک خوب موٹا تازہ ہو مگر اُس کا مذاق اڑانا بلکہ اُس کی طرف دیکھ کر ایذا دینے والے انداز میں   مسکرانا یااشارے کرنا حرام اورجہنَّم میں   لے جانے والا کام ہے ، نیز یہ بھی یاد رکھئے کہ ہر ایک کے موٹاپے کاسبب زیادہ کھاناہی ہو یہ بھی ضروری نہیں  ، مشاہدہ یہ ہے کہ بعض اسلامی بھائی وزن کم کرنے  کیلئے غذاؤں   کی پرہیز یوں   کی کوشِشوں   کے با وجود وَزن کم کرنے میں   ناکام رہتے ہیں   جس کا معنیٰ صاف ظاہر ہے کہ کسی بیماری یادواؤں   کے منفی اثرات کی وجہ سے بے چاروں   کا بدن پھول جاتا ہو گا ۔  بہرحال موٹاپے کا کوئی بھی سبب ہو دل آزاری کی اجازت نہیں  ۔

ڈکاریں   آنا زیادہ کھانے کی علامت ہے

            ڈَکاریں   آنا زیادہ کھانے کی عَلامت ہے چنانچِہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیار ے  حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایک شَخص کی ڈَکار سُنی تو فرمایا : اپنی ڈَکار کم کر، اِس لئے کہ قِیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں  زِیادہ پیٹ بھرتا ہے ۔ (شرحُ السّنۃ للبغوی ج۷ ص۲۹۴ حدیث ۳۹۴۴) جنہوں   نے ڈَکار لی تھی وہ صَحابی( یعنی ابُو جُحَیْفَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) فرماتے ہیں   : اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم! جس دن سروَرِ کا ئنا ت ، شَہنشاہِ موجوداتحبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سے یہ بات ارشاد فرمائی، اُس روز سے لے کر



Total Pages: 5

Go To