Book Name:Ablaq Ghorey Suwar

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

ابلق گھوڑے سُوار

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہرسالہ(48 صفْحات) آخر تک پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّقُربانی  کے مُتعَلِّق کافی معلومات ملیں گی ۔

  دُرُودشریف کی فضیلت

            سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، صاحِبِ معطَّرپسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عافیّت نشان ہے :  ’’اے لوگو! بے شک بروزِ قیامت اسکی دَہشتوں اورحساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں گے ۔ ‘‘(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب  ج۵ ص۲۷۷ حدیث۸۱۷۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اَبْلَق گھوڑے  سُوار

            حضرتِ سیِّدُنا احمد بن اسحٰق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَزَّاق فرماتے ہیں : میرا بھائی باوجودِ غُربت رِضائے الٰہی کی نِیّت سے ہر سال بَقَرہ عید میں قربانی کیا کرتا تھا ۔ اُس کے انتِقال کے بعد میں نے ایک خواب دیکھا کہ قِیامت برپا ہو گئی ہے اور لوگ اپنی اپنی قَبروں سے نکل آئے ہیں ، یکا یک میرا مرحوم بھائی ایک اَبْلَق( یعنی دو رَنگے چِتکُبرے ) گھوڑے پر سُوارنظر آیا ، اُس کے ساتھ اور بھی بَہُت سارے گھوڑے تھے ۔ میں نے پوچھا : یَا اَخِیْ!  مَا فَعَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِکَ؟ یعنی اے میرے بھائی ! اللہ تَعَالٰینے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ کہنے لگا :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بَخْش دیا ۔  پوچھا :  کس عمل کے سبب؟ کہا :  ایک دن کسی غریب بُڑھیاکوبہ نیّتِ ثواب میں نے ایک دِرہم دیاتھا وُہی کا م آگیا ۔  پوچھا :  یہ گھوڑے کیسے ہیں ؟ بولا :  یہ سب میری بَقَرہ عید کی قربانیاں ہیں اور جس پرمیں سُوار ہوں یہ میری سب سے پہلی قربانی ہے ۔  میں نے پوچھا : اب کہاں کا عَزْم ہے ؟ کہا :  جنّت کا ۔  یہ کہہ کر میری نظر سے اَوجَھل ہو گیا( دُرَّۃُ النَّاصِحِین  ص۲۹۰) اللّٰہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت  ہو اور اُن کے صَدقے ہماری  بے حساب مغفِرت ہو ۔   

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اللہ کے چار حروف کی  نسبت سے چار فرامین مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

        {1}قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے (تِرمِذی ج۳ص۱۶۲حدیث ۱۴۹۸){2} جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب  ہو کر قربانی کی ، تووہ آتَشِ جہنَّم سے حِجاب(یعنی رَوک)ہو جائے گی (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۳ص۸۴ حدیث ۲۷۳۶){3}اے فاطِمہ ! اپنی قربانی کے پاس موجودرہو کیونکہ اِس کے خون کا پہلا قطرہ گرے گا تمہارے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے (اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقِی ج۹ ص ۴۷۶ حدیث ۱۹۱۶۱){4}جس شخص میں قُربانی کرنے کی وُسعَت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ۔ ( اِبن ماجہ ج۳ص۵۲۹ حدیث۳۱۲۳)

کیا قرض لیکر بھی قربانی کرنی ہو گی؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !جو لوگ قربانی کی استِطاعت (یعنی طاقت ) رکھنے کے باوُجُود اپنی واجِب قربانی ادا نہیں کرتے ، ان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ، اوَّل یِہی خسارہ(یعنی نقصان) کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے مزید یہ کہ وہ گناہ گار اور جہنَّم کے حقدار بھی ہیں



Total Pages: 16

Go To