Book Name:Kafan Choron Kay Inkishafat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کفن چوروں کے انکشافات

  شیطان لاکھ سُستی دلائے مگر یہ رسالہ (32 صفحات) مکمَّل پڑھ لیجئے اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نمازوں اور نیکیوں کی رغبت اور گناہوں کی نفرت بڑھے گی ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          خا تَمُ المُر سَلین، رَحمۃٌ  لِّلْعٰلمین ، شفیعُ الْمُذْنِبِیْنِ، اَنیسُ الْغَرِیبِین، سِراجُ السَّالِکین، مَحبوبِ ربُّ الْعٰلَمین، جنابِ صادِق واَمین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  و عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ دلنشین ہے : جب جُمعرات کا دن آتا ہے اللہ تعالٰی فِرِشتوں کو بھیجتا ہے جن کے پاس چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں وہ لکھتے ہیں ، کون یومِ جُمعرات اور شبِ جُمُعہ مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھتا ہے ۔  (کنز العمال ج۱ص۲۵۰ رقم۲۱۷۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (۱) ایک کفن چور کی آپ بِیتی

          حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دست ِمبارَک پر ایک ایسے کفن چور نے توبہ کی جس نے سینکڑوں کفن چُرائے تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے استِفسار پر اس نے تین قبروں کے پُراَرسرار واقِعات بیان کیے ۔ چُنانچِہ اُس نے کہا :

آگ کی زَنجیریں

          ایک بار میں نے ایک قَبْر کھودی تو اس میں ایک دل ہلادینے والا منظرتھا  ۔ کیا دیکھتاہوں کہ مُردے کا چِہرہ سیاہ ہے ، ہاتھ پاؤں میں آگ کی زنجیریں ہیں اوراُس کے منہ سے خون اور پیپ جاری ہے ۔ نیز اس سے اِس قَدَر بدبورآرہی تھی کہ دِماغ پھٹا جارہا تھا ۔  یہ خوفناک منظر دیکھ کر میں ڈر کر بھاگنے ہی والا تھا کہ مُردہ بول پڑا : کیوں بھاگتاہے؟آ، اورسن کہ مجھے کس گناہ کی سزا مل رہی ہے !میں مُردے کی پکار سن کر ٹھٹھک کر کھڑا ہوگیا اور تمام ہمّت اِکٹّھی کر کے قبر کے قریب گیا اورجب اندر جھانک کر دیکھا تو عذاب کے فِرشتے اُس کی گردن میں آگ کی زنجیریں باندھے بیٹھے تھے ۔ میں نے مُردے سے پوچھا :  تُو کون ہے؟اُس نے جواب دیا :  ’’میں مسلمان ابنِ مسلمان ہوں مگر افسوس ! میں شرابی اورزانی تھا اوراسی بدمستی کی حالت میں مرا اورعذاب میں گرفتار ہو گیا ۔ اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے اس کفن چورنے مزید بتایا :

کالا مردہ

          ایک اور موقع پر جب کفن چُرانے کی غرض سے میں نے قَبْر کھودی تو ایک کالا مُردہ زَبان نکالے کھڑا ہوگیا ! اس کے چاروں طرف آگ لپک رہی تھی ، فِرِشتے اس کے گلے میں زنجیریں باندھے کھڑے تھے ۔ اُس شخص نے مجھے دیکھتے ہی پکارا : ’’بھائی ! میں سخت پیاساہوں مجھے تھوڑا ساپانی پلادو ۔ ‘‘  فِرِشتوں نے مجھ سے کہا : خبردار!اس بے نَمازی کو پانی مت دینا ۔  پھر میں نے ہمّت کر کے اس مُردے سے پوچھا : تُوکون تھا اورتیر اجُرم کیا ہے؟اُس نے جواب دیا :  ’’میں مسلمان تھا مگر افسوس! میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت نافرمانیاں کی ہیں اور میری طرح بَہُت سے گنہگار عذاب میں گرفتارہیں  ۔ ‘‘اُس نے مزید کہا  :

قَبْر میں باغ

          اِسی طرح ایک دَفعَہ میں نے ایک قَبْر کھودی تو قَبْر کو اندر سے بَہُت ہی وسیع پایااور دیکھا کہ ایک نہایت ہی خوشنمُا باغ ہے جس میں نَہریں بہ رہی ہیں اور ایک حسین وجمیل نوجوان اُس باغ میں مزے لوٹ رہا ہے ۔ میں نے اُس نوجوان سے پوچھا : تجھے کس عمل کے سبب یہ



Total Pages: 8

Go To